خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 151
خطبات ناصر جلد دوم ۱۵۱ خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۶۸ء رکھنے والے اس پر گواہی دیں گے کہ یہ خوف اور محبت کے جذ بہ سے بلند تر ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خوف اور محبت کے بعد جب تم واقعہ میں اللہ تعالیٰ کو پہچاننے لگے اور اس کی معرفت تمہیں حاصل ہو گئی تو پھر تم اس بات سے رہ نہیں سکتے کہ اس کے راستہ میں جہاد کر ویعنی وہ راہ جب مل گئی تو دنیا کی ہر تکلیف برداشت کرتے ہوئے ہر قربانی دے کر اس راہ پر گامزن رہنا یہ مجاہدہ ہے۔مال کی قربانی ہے، نفس کی قربانی ہے، جان کی قربانی ہے، اوقات کی قربانی ہے، عزتوں کی قربانی ہے اور اولاد کی قربانی ہے ہر قسم کی قربانی ہے جس کا مطالبہ جادُوا “ ہم سے کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کا مقام انسان نے پہچان لیا تو وہ کہاں بخل کرے گا بخل تو ایسے دل اور ایسے دماغ میں داخل ہو نہیں سکتا وہ تو یہ کہے گا کہ ہر چیز خدا کی راہ میں قربان ہے اور یہ تیسری ذمہ داری ہے جو خدا تعالیٰ نے انسان پر ڈالی ہے۔پس اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اوّل خدا کا خوف پیدا ہو اور انسان تمام برائیوں کو چھوڑ دے پھر خدا کی محبت پیدا ہو اور انسان نیکی کی ہر راہ پر گامزن ہونے کے لئے تیار ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی قدر اور اس کی عظمت اور اس کا جلال اس کے دل کو اپنے قبضہ میں لے لے اور اس کی راہ میں ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائے جَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالو اسْلَمْنَا لِرَبِّ الْعَلَمِینَ۔جب یہ تینوں مطالبے تم پورے کرو گے لعلم تُفْلِحُونَ تب ہی تم اس فلاح دارین کو حاصل کرو گے جو تمہارے ایمان کی غرض ہے اگر تم ایمان کا دعوی کرو لیکن ان مطالبات کو پورا نہ کرو تو تم فلاح دارین حاصل نہیں کر سکتے تمہارے جیسا بد بخت اور بد قسمت پھر کوئی نہیں ہوگا کہ جس کے ہاتھ میں نہ دنیا ر ہی نہ دین رہا دنیا دار دین کی وجہ سے اس سے پیچھے ہٹ گئے اور ناراض ہو گئے اور خدا کے سامنے اس کے اعمال پیش کئے گئے تو ان میں ہزار کیڑے دنیا کے نکلے اور خدا تعالیٰ نے بھی انہیں رد کر دیا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا کرے کہ ہم واقعہ میں حقیقی مومن بن جائیں اور ایمان کے ہر سہ تقاضوں کو پورا کرنے والے ہوں اور محض اس کے فضل سے ہم فلاح دارین