خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 150
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۶۸ء ہوئی تو کیا ہوا وہ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ پر عمل نہیں کر رہے ہوتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مومن کی یہ شان بتائی ہے کہ وہ قرب کی ہر راہ سے محبت اور پیار اور رغبت اور شوق کا تعلق رکھتا ہے یہ نہیں کہ وہ بعض راہوں پر چلے اور بعض راہوں کو چھوڑ دے۔پھر بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ”جی سارا دن عبادت کر دے رہندے آں چندے نہ دتے تے کیہ ہو گیا حالانکہ ہر قرب کی راہ کو بشاشت سے قبول کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ پیار کرنا چاہیے اور یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری زندگی کا ہر راستہ ہمارے رب تک پہنچانے والا ہوتا کہ ہم اس کی رضا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکیں وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ کا ہی مظاہرہ تھا کہ بعض صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ چاہے انہیں پیشاب کی حاجت نہ ہوتی وہ بعض جگہ پیشاب کرنے کے لئے بیٹھ جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں پیشاب کرتے دیکھا تھا اس لئے ہم رہ نہیں سکے اور ہم نے یہاں پیشاب کیا ہے بظاہر اس فعل میں کوئی دینی چیز نہیں لیکن اس کے پیچھے جو محبت کام کر رہی ہے وہ بڑی عجیب ہے۔اللہ تعالیٰ یقیناً ایسے جذبات کو قبول کرتا ہے یہ چیز انسان کو کہیں سے کہیں اُٹھا کر لے جاتی ہے غرض وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ میں ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ ہم نے تقرب کی ہر راہ سے پیار کرنا ہے یہ نہیں کہ بعض راہوں کو لے لیا اور بعض کو چھوڑ دیا۔جب خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی راہوں کی تعیین ہو گئی اور ان راہوں سے پیار ہو گیا تو پھر ایمان کا تیسر ا تقاضا یہ ہے کہ جَاهِدُوا فِي سَبِیلِه در اصل جیسا کہ میں نے پہلے اشارہ کیا ہے وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسيلَةَ کا تعلق محبت الہی کے ساتھ ہے جیسا کہ اتَّقُوا اللہ کا تعلق خوفِ الہی کے ساتھ ہے پھر جَاهِدُوا فِي سَبِیلِہ جس وقت انسان صحیح معنی میں اپنے رب کو پہچانے لگتا ہے اور اس کی ذات اور اس کی صفات کا ملہ حسنہ کا کامل عرفان حاصل کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی بڑی ہی قدر اور عزت انسان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اس کی عزت اور عظمت اور اس کا جلال کچھ اس طرح دل میں بیٹھ جاتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں رہتی وہ بیچ نظر آتی ہے قدر دانی کا یہ جذبہ محبت اور خوف سے جدا گانہ ہے اور میں سمجھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ تجربہ