خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 118 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 118

خطبات ناصر جلد دوم ۱۱۸ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۶۸ء (۵) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ صرف زبان کا قول کافی نہیں بلکہ عمل کا جو اظہار ہے اس کے ذریعہ دوسروں کے دلوں تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے حسن سلوک ایک بہترین راہ ہے جس سے کہ اگلا آدمی کم از کم اس بات کا قائل ہو جاتا ہے کہ یہ شخص میرا دشمن نہیں جو کچھ کر رہا ہے ، میری ہمدردی ، بھلائی اور خیر خواہی کی وجہ سے کر رہا ہے وہ آپ کو غلط راہ پر سمجھ سکتا ہے، وہ آپ کے عقیدہ کو غلط عقیدہ سمجھ سکتا ہے، وہ آپ کے عمل کو جو اس (کے ) عقیدہ کے مطابق ہے ہوسکتا ہے کہ عمل صالح نہ سمجھے لیکن ان کو یہ وہم کبھی نہیں گزرنا چاہیے کہ یہ شخص جو کچھ کر رہا ہے وہ محبت کے منبع سے نہیں چھوٹا بلکہ دشمنی اور فساد کے منبع سے پھوٹا ہے۔(۶) پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرف ہمیں متوجہ کیا ہے کہ ” موعظہ حسنہ“ کی تعلیم پر عمل کرو جو الہی سلسلے جاری کئے جاتے اور قائم کئے جاتے ہیں ان کے ساتھ بعض پہلوا نذاری بھی ہوتے ہیں موعظہ اس وعظ اور نصیحت کو کہتے ہیں جس میں انذار کا اظہار کیا جائے سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انذار کا اظہار دوسروں کو غصہ دلانے والا اور غلط فہمی پیدا کرنے والا بھی ہوسکتا ہے اس لئے بڑی احتیاط سے کام لیا کرو جب انذاری پیشگوئیاں بیان کیا کرو انذار کے ساتھ تبشیر کے پہلوؤں کو بھی نمایاں کرتے چلے جاؤ تا کہ سننے والے یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو انذاری وعید اور پیشگوئیاں کی ہیں وہ ہماری ہی بھلائی کے لئے ہیں اور ساتھ ہی یہ شرط کر دی ہے کہ اگر انسان تو بہ کرے اور رُو بہ اصلاح ہو اور اپنے رب اور مولی کی طرف رجوع کرے تو یہ وعیدٹل جایا کرتے ہیں اور ضروری ہے کہ اصلاح کے بعد انذاری پیشگوئیاں پوری نہ ہوں جیسا کہ انبیائے سابقین جو ہیں ان کی پیشگوئیوں کی تاریخ سے بڑی اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔(۷) پھر ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ منکر اور مخالف کے اعتقادات کے دھارے کا منہ موڑنے کے لئے امن اور صلح کی راہوں کو اختیار کر وفتنہ اور فساد کی راہوں سے اجتناب کرو اور احسن کے ساتھ اس کا مقابلہ کرو اور (۸) آٹھویں بات ہمیں یہ بتائی گئی تھی کہ جب تم نے اپنے جتھے کی مضبوطی اپنی عزت کے استحکام یا اپنی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے دنیا کو اپنی طرف نہیں بلا نا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف