خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 117 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 117

خطبات ناصر جلد دوم 112 خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۶۸ء کے حالات کے مطابق ہمارے پاس ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی سکھائی ہوئی تفسیر ہے۔(۳) پھر ہمیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہرمحل پر بولنا جو ہے وہ خوبی نہیں بلکہ بعض دفعہ گندہ دہنی کے مقابلہ میں انسان ایک بلیغ خاموشی کو اختیار کرتا ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الصَّمْتُ حُكْم - حکم کے معنی یہاں مفردات راغب میں حکمت کے لکھے ہیں۔(۴) پھر ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ مخاطب کی طبیعت اور اس کے علم اور اس کی ذہنیت کے مطابق اس سے بات کرنی چاہیے اور جو ایسا نہیں کرتا وہ حکمت سے بعید بات کرتا ہے۔بعض دفعہ بعض نوجوان اپنی جوانی کے جوش میں اس چیز کو بھول جاتے ہیں کہ بات تو اس سے کرنی چاہیے جس کی طبیعت کا ہمیں علم ہو اور واقفیت ہو اس کی ذہنیت سے ہم واقف ہوں اور وہ بات اس کے سامنے ہم کریں جو وہ سمجھ سکتا ہو۔میں نے سنا ہے کہ بعض دفعہ بعض نوجوان مساجد میں رات کے وقت اپنے رسالے یا اپنے اشتہار چھوڑ آتے ہیں یا دکانوں کی دہلیز میں سے اندرا اپنا لٹریچر رکھ دیتے ہیں تو یہ حکمت کا طریق نہیں، یہ وہ طریق نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے پسند کیا ہے نہ یہ وہ طریق ہے جو اثر انداز ہوسکتا ہے۔ہمارا مقصد یہ نہیں کہ پچاس ہزار اشتہار طبع کروا کے اسے تقسیم کر دیں مقصد تو یہ ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ایک نور کو پایا ، ہم نے ایک برکت کو حاصل کیا ہم پر رحمت کے دروازے کھلے ہم یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم نے اس نور، اس برکت اور اس رحمت کو حاصل کیا ہے ہمارے دوسرے بھائی بھی اس نور، برکت اور رحمت کو حاصل کریں لیکن ایسا طریق اختیار کرنا کہ ان حسین جنتوں کے دروازے وا ہونے کی بجائے اور بھی ان پر مسدود ہو جائیں تو یہ حکمت کا طریق نہیں ہے ان چیزوں سے ہمیشہ بچتے رہنا چاہیے اور بڑے استغفار کے ساتھ اور بڑے تضرع کے ساتھ اور بڑی محبت اور پیار کے ساتھ ان باتوں کو ان بھائیوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے جو ابھی ان باتوں کو تسلیم نہیں کرتے اور ان پر ایمان نہیں لاتے تا وہ یہ یقین کرنے لگیں کہ یہ شخص انتہائی محبت سے، انتہائی خلوص سے، ہمارے سامنے یہ با تیں رکھ رہا ہے اور کوئی لڑائی اور جھگڑا اور فساد کا دروازہ نہ کھلے۔