خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 119 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 119

خطبات ناصر جلد دوم ۱۱۹ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۶۸ء بلانا ہے اور تمہاری ذات کا اس میں کوئی فائدہ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے جس راہ اور جس طریق سے بلانے کا حکم دیا ہے اس طریق کو اختیار کرو اور نرمی اور محبت اور پیار سے کام لو۔(۹) پھر ہمیں کہا گیا ہے کہ منہ کی باتیں اگر دل اور اگر جوارح اور اگر روح سے نہ نکلیں تو وہ اثر انداز نہیں ہوا کرتیں اس لئے تم دنیا کے سامنے عملی نمونہ رکھو فر ما یا :۔وَ مَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا ( حم السجدة : ۳۴) تو جب تک عمل صالح ساتھ نہ ہو اس وقت تک تمہاری باتیں دنیا کے دلوں کو جیتیں گی نہیں اور فتح نہیں کریں گی اور ان دلوں کو جیت کر اور ان دلوں کو فتح کر کے تم اس قابل نہیں ہو گے کہ تم انہیں اپنے ربّ کے قدموں پر لا ڈالو۔اس لئے جب تم حق کی اشاعت کے لئے اپنے گھروں سے یا اپنے شہر سے اپنے قفس سے جو نفس کی خواہشات کا ایک پنجرہ ہوتا ہے اس سے باہر نکلو تو اس وقت عملی نمونہ اپنے ساتھ لے کے جانا اور نہ تمہاری باتیں جو ہیں وہ ایک کان میں داخل ہوں گی اور دوسرے کان سے باہر نکل جائیں گی۔(۱۰) پھر دسویں بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ عمل جو بظا ہر عمل صالح نظر آتا ہے ضروری نہیں کہ وہ خدا کی نگاہ میں بھی عمل صالح ہو اس لئے تمہاری روح کی بھی آواز یہی ہونی چاہیے کہ رائینی مِنَ الْمُسْلِمِينَ ( حم السجدۃ: ۳۴) کہ میں آستانہ الہی پر ہر وقت جھکی ہوئی ہوں اور تمہاری روح دنیا کے کان میں یہ آواز ڈالے کہ میں نے اپنا اور اپنوں کا سب کچھ اپنے رب کی راہ میں قربان کر دیا ہے۔پس ان باتوں کا تبلیغ کے اوقات میں اور اشاعت اسلام کرتے ہوئے خیال رکھنا ضروری ہے غلط راہ اختیار کر کے شاید ہم ظاہر بین نگاہ کو اور شاید اپنے دلوں کو بھی خوش کر لیں لیکن جب تک ہم خدا تعالیٰ کی فرمودہ ان باتوں کا خیال نہیں کریں گے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس کے عباد میں شامل نہ ہوں گے اور اس کی رحمت اور برکت ہماری کوششوں میں نہ ہوگی اور وہ فتح کے وعدے اور وہ کامیابی کی بشارتیں جو غلبہ اسلام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے دی ہیں ہم ان بشارتوں کے اور ان وعدوں کے وارث نہیں ٹھہریں گے۔