خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 713
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۱۳ خطبہ جمعہ ۲۶ رمئی ۱۹۶۷ء لیکن اس طرح کام نہیں بنے گا بلکہ کافی تعداد میں لوگوں کو یہاں آنا پڑے گا تب ہم دینِ اسلام کی خدمت کما حقہ کر سکتے ہیں۔بہر حال اس کی تفصیل تو میں اس وقت بتاؤں گا جب میں ان مقاصد پر بطور وعدہ کے بیان کو ختم کر چکوں گا اور ان وعدوں پر بطور ذمہ داری کے اپنے بیان کو شروع کروں گا کیونکہ یہ ساری ذمہ داریاں ہیں جو مسلمانوں پر اور خصوصاً اس وقت میں ہم احمدیوں پر عائد ہوتی ہیں۔تیرھواں مقصد والعین میں بیان ہوا تھا اور بتایا گیا تھا کہ اس کے ذریعہ سے ایک ایسی قوم پیدا کی جائے گی جو اپنی زندگی خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کرنے والی ہوگی اور واقفین کے اس گروہ میں قوم قوم اور ملک ملک کے نمائندے شامل ہوں گے یہ غرض بھی صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے پوری ہوئی ہے اس سے پہلے اس کے پورا ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا کیونکہ قوم قوم کے نمائندے وہاں آہی نہ سکتے تھے مکہ کا نہ انہیں علم تھا نہ اس کی محبت ان لوگوں کے دلوں میں تھی۔میں نے بتایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مقاصد کو پورا کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ انْتُمْ عَرِفُونَ فِي الْمَسْجِدِ ( البقرة : ۱۸۸) اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم تم سے یہ امید رکھتے ہیں کہ تم مساجد میں اعتکاف بیٹھا کرو۔دنیا کے تمام تعلقات سے منہ موڑ کر خالصہ خدا کے لئے اپنی زندگی کے چوبیس گھنٹے چند ایام کے لئے گزارو تا کہ وقف کی روح کو زندہ کیا جائے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرے لئے ساری زمین کو مسجد بنایا گیا ہے۔اس لئے وَ انْتُمْ عَرِفُونَ فِي الْمَسْجِدِ کے معنی یہ ہوئے کہ میری خاطر تمہیں خطہ خطہ زمین میں بطور واقف کچھ وقت گزارنا پڑے گا کیونکہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی اشارہ بتا یا تھا خانہء کعبہ یا بیت اللہ ایک مرکزی نقطہ ہے اور ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تمہیں اس کے اظلال بھی بنانے پڑیں گے یعنی اسی کی نقل میں انہی مقاصد کے حصول کے لئے اسی قسم کی پاکیزگی اور طہارت کو پیدا کرنے کے لئے جگہ جگہ پر ایسے مرا کز کھولنے پڑیں گے جو بیت اللہ کے ظل ہوں گے اور ان کے قیام کی غرض وہی ہوگی جو بیت اللہ کے قیام کی غرض ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بتایا کہ انتُم عَصِفُونَ فِي الْمَسْجِدِ کہ ہر اس جگہ پر جہاں اُمتِ مسلمہ