خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 714 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 714

خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۲۶ رمئی ۱۹۶۷ء تقویٰ کی بنیادوں پر بیت اللہ کا ظل قائم کرے گی۔تمہیں بطور واقف کے بیٹھنا پڑے گا ورنہ یہ مقصد پورا نہیں ہو گا اس کے متعلق بھی میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، لیکن مجھے خیال آیا کہ اگر خانہ کعبہ کی تعمیر کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ واقفین اُمہ یعنی ہر مقام اور قبائل کے جو واقف ہیں وہ مرکز یا اس کے ظل میں آکر جمع ہوں اور وہاں بیٹھیں تو وقف اور ہجرت میں بڑی مشابہت پائی جاتی ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ صرف مکہ سے ہی نہیں بلکہ دوسرے علاقوں سے بھی قبائل کے بعض نمائندے اپنے علاقہ کو چھوڑ کے اور اپنے قبیلے کو چھوڑ کر مدینہ میں آکے دھونی رما کے بیٹھ گئے تھے اور پھر وہیں بیٹھے رہے۔ان کی جو ہجرت تھی اپنی قوم یا اپنے ملک سے وہ اس قسم کی نہیں تھی جو مکہ سے ہجرت تھی بلکہ اس قسم کی تھی جو ایک واقف کی ہجرت ہوتی ہے جو اپنا علاقہ چھوڑ کے ،اپنی رشتہ داریاں چھوڑ کے، اپنے گھر بار کو چھوڑ کے، اپنی جائیداد کو چھوڑ کے خدا کے لئے مرکز میں آ جاتا ہے اور پھر مرکز کی ہدایت کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں میں کام کرتا ہے۔مثلاً یمن میں ایک قبیلہ اشعر بین کا تھا وہاں کے ابو موسیٰ اشعری بڑے مشہور بزرگ صحابی ہیں ان کے ساتھ اتنی نفوس ہجرت کر کے مدینہ میں آگئے اور اسی طرح اور بہت سے قبائل ہیں تاریخ میں جن کا ذکر آتا ہے کہ وہ مدینہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے استفادہ کے لئے وہاں آگئے تھے جن میں سے ایک ابو ہریرہ بھی ہیں رضی اللہ عنہ۔چودھواں مقصد والدرع السُّجُودِ میں بیان ہوا تھا اور بتایا گیا تھا کہ اس کے ذریعہ سے اقوام عالم ذات باری اور صفات باری کا کامل عرفان حاصل کریں گی اور اس کے نتیجہ میں اطاعت، فرماں برداری، ایثار اور فدائیت اور قربانی کے وہ نمونے دکھا ئیں گی کہ جن کی مثال دنیا میں کوئی اور مذہب پیش نہ کر سکے گا اور جنہیں دیکھ کر دنیا حیرت میں ڈوب جائے گی۔یہ مقصد بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پورا ہوا اور آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں نہ صرف آپ کے زمانہ میں بلکہ بعد میں بھی ہر صدی میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جو اس مقصد کو پورا کرنے والے تھے اس کی تفصیل میں بھی میں اس وقت جانا نہیں چاہتا اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی تو جب میں ذمہ داریوں کی طرف دوستوں کو توجہ دلاؤں گا اس وقت میں اس کی