خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 474 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 474

خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ اار نومبر ۱۹۶۶ء نے کہا کہ ہاں پرائم منسٹر کچھ پریشان ہے لیکن پوری بات انہیں نہیں بتائی۔البتہ پرائم منسٹر کے مفصل حالات مجھے لکھے اور درخواست کی کہ میں اس کے لئے دعا کروں کہ اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی کو دور کرے۔پرائم منسٹر احمدی نہیں لیکن ہمارے گورنر الحاج کی تبلیغ سے ہی وہ مسلمان ہوئے تھے۔تو الحاج کو پتہ ہے کہ اس کی پریشانی کیا ہے۔خود پرائم منسٹر کو پتہ ہے کہ اس کی پریشانی کیا ہے۔ممکن ہے اس کے کسی اور دوست کو بھی پتہ ہولیکن یہ یقینی بات ہے کہ نہ خواب دیکھنے والے کو پتہ ہے کہ وہ پریشانی کیا ہے اور نہ خواب لکھنے والے کو علم ہے کہ کون سی پریشانی ہے اور کون سا پتھر ہے جو اس کے گلے میں لٹکا ہوا ہے اور کون سا سمندر ہے جس میں اس نے چھلانگ لگا دی ہے۔تو یہ بات ثابت کرتی ہے کہ یہ خواب اسے اس کے نفس نے نہیں دکھائی بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھیج کر یہ خواب اسے دکھائی۔نہ خواب دیکھتے وقت ان حالات کا اسے علم تھا۔نہ ہی اب تک کچھ پتہ ہے۔حالانکہ خواب دیکھے ہوئے مہینہ ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ہے۔سو اس قسم کی مثالیں ایک دو نہیں ہمارے پاکستان میں بھی ہزاروں تک پہنچی ہوئی ہیں۔شاید اس سے بھی زیادہ ہوں۔پھر اس قسم کی مثالیں صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ امریکہ کے حبشی جن کو اس وقت وہاں تنگ کیا جا رہا ہے۔افریقہ کے حبشی جن پر دنیا ظلم کرتی آئی ہے۔جن کو دنیا ز بر دستی پکڑ کے منڈیوں میں بیچتی چلی آئی ہے۔ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نگاہ میں آزاد کر دیا ہے اور انہیں سچی خوا ہیں ، مکاشفات اور الہامات ہونے شروع ہو گئے ہیں۔بہت سارے ملہم ہیں سچی خوا میں دیکھنے والے، کشوف ورڈ یا دیکھنے والے، ان کو اللہ تعالیٰ نے وقت سے پہلے بہت عجیب عجیب نظارے دکھائے پھر نا مساعد حالات میں دکھائے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے حالات بدل دیئے۔اسی کے ہاتھ میں ہر چیز ہے۔جو پہلے بتایا تھا ویسا ہی کر دیا اور یہ وہ چیز ہے جس کے نتیجہ میں ان لوگوں کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بے انتہاء محبت پائی جاتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے نتیجہ میں وہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق ہوتے جا رہے ہیں اور قرآن کریم کی وہ قدر کرتے ہیں جو واقعہ میں کرنی چاہیے۔وہ خدا کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکتے