خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 475 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 475

خطبات ناصر جلد اول ۴۷۵ خطبہ جمعہ اار نومبر ۱۹۶۶ء کیونکہ زندہ خدا اپنی زندہ طاقتوں اور زندہ قدرتوں کے ساتھ ان پر جلوہ گر ہو رہا ہے اور اس لئے ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اسلام کی سچی تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے پہنچی۔ایک تو یہ بنیادی چیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کو دی۔دوسری بنیادی چیز جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو دی وہ ” زندہ رسول“ ہے۔لوگ یہ سمجھنے لگ گئے تھے کہ نعوذ باللہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ابتر ہیں۔آپ کے کوئی نرینہ اولاد نہیں یعنی آپ کے ہاں جتنے بیٹے ہوئے سارے کے سارے چھوٹی عمر میں فوت ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر کو دیکھ کر اور فنا فی اللہ کے مقام پر نظر کرتے ہوئے آپ کو وعده ديا انا اعطينكَ الكوثر کہ بے شک جسمانی نرینہ اولا د نہیں رہی لیکن روحانی اولاد ہم تجھے اس کثرت سے دیں گے کہ دنیا کا کوئی نبی تیرا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔حتی کہ اگر دنیا کے تمام انبیاء کی روحانی اولاد کو اکٹھا کر دیا جائے تو بھی آپ کی روحانی اولا دزیادہ ہو گی۔اسی مقام کی وجہ سے آپ کو خاتم النبیین کا لقب ملا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت لوگ یہ سمجھنے لگے تھے کہ جسمانی اولا د تو آپ کی ہے نہیں۔آپ کی کوئی روحانی اولا د بھی نہیں جو آپ کے فیوض سے فیض حاصل کر کے ارفع روحانی مقام حاصل کر سکے اور جن سے خدا تعالیٰ ہمکلام ہو اور جنہیں قبولیت دعا کا نشان دیا جائے۔تو یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دراصل زندہ نبی نہیں مانتے۔بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے فیوض آپ کے زمانہ میں ہی تھے آگے جاری نہیں رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ایسا نہیں اور ہر گز نہیں۔ہمارا رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک زندہ رسول ہے اس کے فیوض ، اس کی روحانیت اور اس کی قوت قدسیہ جس طرح پہلے تھی اب بھی ہے۔اور قیامت تک جاری رہے گی۔چنانچہ جو برکات آپ کے ذریعہ سے پہلے لوگوں نے حاصل کیں وہ اب بھی حاصل کی جاسکتی ہیں اور میں اس بات کا زندہ گواہ ہوں۔میں اپنی زندگی اور دلائل سے ثابت کر سکتا ہوں اور نمونہ سے بتا سکتا