خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 473 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 473

خطبات ناصر جلد اول ۴۷۳ خطبہ جمعہ ۱۱/ نومبر ۱۹۶۶ء اور سارے ملک کے لحاظ سے اس کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔اس میں بھی گنتی کے چند آدمیوں کے علاوہ آپ کو کوئی نہ جانتا تھا۔باقی دنیا کا تو کہنا ہی کیا؟ اس کو تو قطعاً آپ کے متعلق کوئی واقفیت نہ تھی۔یہ حال آج سے سترہ پچھتر سال پہلے کا ہے۔اور آج وہ دن ہے کہ دنیا کے قریباً ہر ملک میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگ پیدا کر دیئے ہیں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے انتہائی محبت اور عقیدت رکھتے ہیں جو اسلام کے فدائی ہیں۔جو قرآن کریم کے نور سے منور ہیں۔جو توحید خالص پر قائم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ وقت سے پہلے آئندہ کی خبریں دیتا ہے اس وقت ایسے ہزار ہا احمدی افریقہ، امریکہ اور یورپ میں موجود ہیں۔ابھی چند دن ہوئے مجھے گیمبیا کے مبلغ مولوی غلام احمد صاحب بدوملہی نے لکھا۔(اس ملک کے گورنر جنرل احمدی ہیں) کہ یہاں گیمبیا کا ایک حبشی باشندہ چند سال سے احمدی ہے۔بہت مخلص ہے اور وہ تہجد کے نوافل ادا کرنے کے لئے اکثر مسجد میں آتا ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل ہے کہ وہ کثرت سے سچی خوا ہیں دیکھتا ہے۔وہ خانساماں ہے اور دنیا داروں کی نظر میں اس کی کوئی قدر نہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل اور اسلام کی برکات کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے فیضان سے اس کو بھی حصہ ملا ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ کثرت سے اسے سچی خوا ہیں دکھاتا ہے۔چنانچہ ہمارے مبلغ نے ایک دو مثالیں بھی لکھی ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ یہ شخص بے روز گار تھا۔اس نے خواب دیکھی کہ میں نوکر ہو گیا ہوں سولہ پونڈ ماہوار پر۔صرف یہی نہیں دیکھا کہ نوکر ہو گیا ہوں بلکہ خواب میں یہ بھی دیکھا کہ ماہوار تنخواہ سولہ پونڈ ہوگی اور یہ خواب اس نے مجھے بتادی۔ابھی تین دن نہیں گزرے تھے کہ اسے سولہ پونڈ ماہوار کی نوکری مل گئی۔لیکن اس سے بھی ایک عجیب خواب اس نے یہ دیکھی کہ گیمبیا کے پرائم منسٹر نے اپنے گلے میں ایک بڑا سا پتھر باندھ کر سمندر میں چھلانگ لگا دی ہے۔یہ خواب ایسی ہے کہ نہ خواب دیکھنے والے کو اس کے متعلق کچھ علم ہے اور نہ ہی مولوی غلام احمد صاحب بدوملہی کو کوئی پتہ ( کہ ان کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا ) یہ خواب مولوی صاحب نے وہاں کے گورنر کو جو احمدی ہے اور جماعت کا پریذیڈنٹ بھی ہے۔بتائے۔اس پر گورنر صاحب