خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 407
خطبات ناصر جلد اول ۴۰۷ خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۶۶ء ا پر غور کرنے کی اسے عادت ہو۔وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والا ہو کہ برکت کے جو چشمے تیری اس پاک اور مطہر کتاب سے پھوٹ رہے ہیں۔اے خدا! تو ہمیں توفیق دے کہ ہم ان چشموں کے پانی سے اپنے جسموں اور اپنی روحوں کو اس طرح دھوڈالیں کہ وہ تیری نگاہ میں اس برف کی طرح صاف اور پاک ہو جائیں جو تازہ تازہ آسمان سے گرتی ہے اور سفید ، صاف اور ہر قسم کی آلائشوں سے منزہ ہوتی ہے۔میرے دل میں بڑی شدت کے ساتھ یہ احساس بھی پیدا ہورہا تھا کہ جماعت کا ایک حصہ اس کام کی طرف کما حقہ متوجہ نہیں ہو رہا اس لئے ضرورت ہے کہ ہر فرد بشر کو جو احمدیت کی طرف منسوب ہوتا ہے اس طرف متوجہ کیا جائے ، اسے قرآن کریم پڑھایا جائے ، اسے قرآن کریم کے معانی بتائے جائیں ، قرآن کریم کی تعلیم سے اسے متعارف کرایا جائے۔اسے ایسا بنادیا جائے کہ قرآن کریم کا عرفان اسے حاصل ہو اور اس کام کے لئے اپنے رب سے دعائیں کی جائیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اور اس کے القاء کے ماتحت میں نے قرآن کریم کی اشاعت اور جماعت کی تربیت کی غرض سے جماعت میں وقف عارضی کی تحریک کی اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بشارت دی تھی۔یہ تحریک محض اس کے فضل سے ہر لحاظ سے بڑی ہی کامیاب ثابت ہوئی اور کامیاب ثابت ہو رہی ہے۔اس وقف عارضی کی تحریک میں حصہ لینے والے نوجوان بھی تھے، بوڑھے بھی تھے ، کم علم طالب علم بھی تھے اور بڑے تجربہ کار ایم۔اے، جنہوں نے اپنی ساری عمر علم کے میدان میں گزاری تھی ، وہ بھی تھے۔پھر اس تحریک میں حصہ لینے والے زیادہ تر مرد تھے لیکن کچھ عورتیں بھی تھیں جنہوں نے اس میں حصہ لیا۔کیونکہ میں نے اپنے لئے یہ طریق وضع کیا تھا کہ میں وقف عارضی کی تحریک میں بیوی کو بھی خاوند کے ساتھ جانے کی اجازت دے دوں گا بشرطیکہ اس نے بھی وقف عارضی میں نام دیا ہوا ہو۔اسی طرح باپ کے ساتھ بیٹی کو بھی جانے کی اجازت دے دوں گا اگر اس نے وقف عارضی میں اپنا نام دیا ہوا ہو۔اس کے علاوہ میں اور کسی احمدی بہن کو اس میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دوں گا۔