خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 406 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 406

خطبات ناصر جلد اول ۴۰۶ خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۶۶ء دینی لحاظ سے بھی اور دنیوی لحاظ سے بھی مالا مال پایا ہے۔انہوں نے زندگی کے ہر شعبہ میں جس فراخی ، جس وسعت اور جس رفعت کو پایا اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی اور قوم نہیں کرسکتی۔جہاں بھی گئے وہ کامیاب ہوئے۔مٹی کو بھی اگر انہوں نے ہاتھ لگایا تو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی برکت سے اس مٹی کو بھی سونا بنا دیا۔انوار قرآنیہ سے انہوں نے تمام دنیا کو منور کیا اور قیامت تک کے آنے والوں کی دعاؤں کے وہ وارث ہوئے لیکن پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تھا تین صدیاں گزر جانے کے بعد مسلمان اس خزانہ سے غافل ہو گئے اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہم اپنی عقل اپنے زور، اپنی وجاہت اور اپنے مال سے وہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو قرآن کریم ہمیں عطا نہیں کر سکتا۔تب زوال کی وہ کون سی راہ تھی جس پر وہ گامزن نہیں ہوئے اور عسر اور تنگ دستی کا وہ کونسا گوشئہ تاریک تھا جو ان کے حصہ اور نصیب میں نہیں آیا۔غرض اسی طرح اللہ تعالیٰ کی منشا پوری ہوتی رہی۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ آ گیا اور ثریا سے انوار قرآنیہ کا نزول شروع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ مس قرآنی کے سامان پیدا کر دیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی ایسی لا جواب تفسیر دنیا کے سامنے رکھی اور آج کی دنیا کے مسائل اور اس کی الجھنوں کو اس حسن اور خوبی سے حل فرمایا کہ ایک عقلمند انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے غور کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہو اس احسانِ عظیم سے انکار نہیں کر سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کے سامان پیدا کرنے کے لئے اشاعت علوم قرآنی کو سہل کر دیا اور ہر قسم کی سہولتیں ہمارے لئے مہیا کر دیں۔چنانچہ جماعت احمدیہ نے پھر قرآن کریم کا عرفان حاصل کیا اور اس کی قدر ان کے دلوں میں پیدا ہوئی اور احمدیت کی طرف منسوب ہونے والوں نے یہ عہد کیا کہ ہم اپنے ربّ کے لئے اپنی ساری زندگیوں کو اپنے سارے اموال کو بلکہ اپنا جو کچھ بھی ہے اسے قربان کر دیں گے اور غلبہ اسلام کے لئے اور قرآن کریم کی اشاعت کے لئے جو کچھ بھی ہم سے مانگا جائے گا۔ہم دیتے چلے جائیں گے۔اشاعت قرآن کی راہ میں اس ایثار اور قربانی سے پہلے کہ جس کا ہر احمدی نے عہد کیا ہے۔ضروری ہے کہ وہ خود قرآن کریم پڑھ سکتا ہو قرآن کریم کے معانی جانتا ہو اور پھر ان معانی