خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 408
خطبات ناصر جلد اول ۴۰۸ خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۶۶ء مجھے یاد ہے کہ ایک بہن نے لکھا تھا کہ میری ہی تحریک کے نتیجہ میں میرے بھائی نے وقف عارضی کے سلسلہ میں اپنا نام پیش کیا ہے آپ اجازت دیں کہ میں بھی وقف کے کام کے لئے اس جگہ چلی جاؤں جہاں میرے بھائی کو مقرر کیا جائے۔میں نے اپنی اس عزیزہ بچی کو اس کی اجازت نہیں دی تھی۔بہر حال کچھ احمدی بہنیں بھی اپنے خاوندوں کے ساتھ جا کر بطور واقفہ کے اس تحریک میں حصہ لے چکی ہیں۔اس تحریک میں حصہ لینے والے ان پڑھ تھے یا کم پڑھے ہوئے تھے۔یا بڑے عالم تھے۔چھوٹی عمر کے تھے یا بڑی عمر کے اللہ تعالیٰ نے ان پر قطع نظر ان کی عمر ، علم اور تجربہ کے ( کہ اس لحاظ سے ان میں بڑا ہی تفاوت تھا ) اپنے فضل کے نزول میں کوئی فرق نہیں کیا۔اس عرصہ میں ان سب پر اللہ تعالیٰ کا ایک جیسا فضل ہوتا رہا۔اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے اور اس کے فضل سے ۹۹ فیصدی واقفین عارضی نے بہت ہی اچھا کام کیا۔ان میں سے ہر ایک کا دل اس احساس سے لبریز تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عرصہ میں اس پر اتنے فضل نازل کئے ہیں کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کر سکتا اور اس کے دل میں یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ خدا کرے اسے آئندہ بھی اس وقف عارضی کی تحریک میں حصہ لینے کی توفیق ملتی رہے اور بعض جماعتوں نے تو یہ محسوس کیا کہ گویا انہوں نے نئے سرے سے ایک احمدی کی زندگی اور اس کی برکات حاصل کی ہیں۔ان کی غفلتیں ان سے دور ہو گئی ہیں اور ان میں ایک نئی روح پیدا ہوگئی۔ان میں سے بہتوں نے تہجد کی نماز پڑھنی شروع کر دی اور جو بچے تھے انہوں نے اپنی عمر کے مطابق بڑے جوش اور اخلاص کے ساتھ قرآن کریم، نماز یا نماز کا ترجمہ اور دوسرے مسائل سیکھنے شروع کئے۔غرض واقفین عارضی کے جانے کی وجہ سے ساری جماعت میں ایک نئی زندگی ایک نئی روح پیدا ہوگئی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے خود واقفین عارضی نے یہ محسوس کیا کہ اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑے فضل نازل کئے ، بڑی برکتیں نازل کیں۔ان میں سے بعض اپنا عرصہ پورا کر نے کے بعد واپس آکر مجھے ملے تو ہر فقرہ کے بعد ان کی زبان سے یہ نکلتا تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے بڑے نمونے دیکھے ہیں۔ان کے منہ سے اور ان کی زبان سے خود بخود اس قسم کے