خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 265 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 265

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۶۵ خطبہ جمعہ ۲۰ رمئی ۱۹۶۶ء یہ قریب ۱۸۶۸ سے بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔اور ۱۸۸۹ سے بھی جو بیعت کا سنہ ہے۔اس کے ساتھ ہی ایک اور بات بھی ان الہامات سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ ان الہامات وو کے پورا ہونے کا وقت قریب نہیں بلکہ دور ہے کیونکہ تجلیات الہیہ میں حضور فرماتے ہیں:۔سو تم ان باتوں کو یا درکھوان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کیونکہ بہ خدا کا کلام ہے“ تو صندوقوں میں پیشگوئی کو محفوظ رکھنے کا مطلب ہی یہی ہے کہ قریب زمانے میں یہ پیشگوئی پوری نہ ہوگی بلکہ لوگ اعتراض کریں گے کہ بڑا لمبا زمانہ گزر گیا ہے اور یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔اس لئے تم اس کی تاویل کرنا شروع نہ کرنا بلکہ ان پیشگوئیوں کو محفوظ رکھنا کہ یہ خدا کا کلام ہے اور وہ اپنے وعدوں کا سچا ہے۔جیسے کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ برکت تلاش کرنے والے بعض ایسے بادشاہ بھی ہوں گے جو مِن بِلادٍ لَّا أَعْرِفُهَا۔ایسے ممالک سے ہوں گے جن کو میں ( مسیح موعود ) نہیں جانتا۔تو اگران الہامات کے بعد دنیا میں ایسے نئے ممالک نمودار ہو جائیں جو مملکت کی حیثیت اختیار کرلیں اور ان کا سر براہ بھی احمدی ہو پھر اس کے دل میں یہ خواہش بھی پیدا ہو کہ وہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں سے برکت حاصل کرے اور پھر وہ خلیفہ وقت سے درخواست کرے کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں کا ایک ٹکڑا بھیجا جائے تا کہ میں اس سے برکت حاصل کرسکوں۔تو اس کا مطلب یقینا یہ ہوگا کہ یہ پیشگوئی کئی لحاظ سے ایک خاص شان کے ساتھ پوری ہوئی۔چنانچہ گیمبیا کے Acting گورنر جرنل الحاج نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ میں انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑے کا ایک ٹکڑا بھجواؤں تا کہ وہ اس سے برکت حاصل کر سکیں خدا تعالیٰ نے یہ پیشگوئی پورا کرنے کے لئے اول یہ ملک بنایا اور پھر اسے آزادی دلائی۔پھر وہاں ایک احمدی کو اس کا سر براہ بنایا پھر اس کے دل میں یہ خواہش پیدا کی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا کپڑا منگوائے۔اور اس سے برکت ڈھونڈے۔پہلے الہام کا پہلا حصہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام تذلل اور انکسار کی