خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 266 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 266

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۶۶ خطبه جمعه ۲۰ مئی ۱۹۶۶ء طرف توجہ دلا رہا تھا۔دوسرے الہام میں یہ بتایا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جو سلسلہ جاری کیا گیا ہے اس کی ایک ہی غرض ہے اور خود آپ کی زندگی کا بھی ایک ہی مقصد ہے وہ یہ کہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی توحید قائم ہو جائے۔اس پیشگوئی کے متعلق جو اعتراضات مخالفین کی طرف سے کئے گے ہیں ان میں سے ایک میں دوستوں کو سنانا چاہتا ہوں۔وہ اعتراض اخبار آزاد لا ہور مورخہ ۲۴ نومبر ۱۹۵۰ صفحه ۲ کالم ۱ میں شائع ہوا ہے۔مضمون نگار ایک شخص ابو القاسم رفیق صاحب لاہوری ہیں اور اس مضمون کا عنوان ہے:۔ربع مسکون پر میرزائی حکومت کا خواب پریشانی“ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ دعویٰ کہ خدا تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے یہ ان کے نزدیک ایک خواب پریشان سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ اس بات کا کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ حکیم نور دین صاحب کے دل میں قیام سلطنت کا جذ بہ از خود پیدا ہوا تھا یا مرزا صاحب نے اس کے لئے تحریک کی تھی۔مرزا صاحب کوٹو ڈی اور سرکاری نبی بنانے والے حضرات شاید مؤخر الذکر خیال کا مضحکہ اڑائیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ گومرزا صاحب نے تقدس کی دکان ابتدا محض شکم پروری کے لئے کھولی تھی لیکن ترقی کر کے سلطنت پر فائز ہونے کا لائحہ عمل بھی شروع سے ان کے پیش نظر تھا اور انہیں آغا ز کار سے اس مطلب کے الہام بھی ہوا کرتے تھے۔چنانچہ بقول میاں بشیر احمد ایم۔اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی مرزا صاحب کا پہلا الہام جو ۱۸۶۸ یا ۱۸۶۹ میں ہوا یہ تھا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ (سیرۃ المہدی جلد ۲ ص ۱۵۰) خود مرز ا صاحب نے نہ صرف اس الہام کا بڑے طمطراق سے براہین میں تذکرہ فرمایا بلکہ عالم کشف میں وہ بادشاہ بھی مرزا صاحب کی ” مقدس بارگاہ میں پیش کر دیئے گئے جوان