خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 264 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 264

خطبات ناصر جلد اول ہے اور میں تجھ سے ہوں“ اور اس کے بعد فرمایا کہ وو ۲۶۴ خطبه جمعه ۲۰ مئی ۱۹۶۶ء وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا تعالیٰ بادشاہوں اور امیروں کے دلوں میں تیری محبت ڈالے گا“ تو ایک جگہ کمال تذلل کا ذکر ہے۔اور دوسری جگہ اس تذلل کے نتائج پیدا کرنے کا ذکر ہے یعنی یہ کہ حضور علیہ السلام کے ذریعہ توحید قائم ہوگی۔یہ ذکر یہاں اس لئے کیا گیا ہے تا کہ خدا تعالیٰ ہمیں یہ بتائے کہ مخالف لوگ یہ اعتراض کریں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا میں ایک دوکانداری جاری کی ہوئی ہے اور یہ دنیا میں حاکم بننا چاہتے ہیں اور یہ سارا سلسلہ انہوں نے اپنے ذاتی وقار اور عزت کے قیام کے لئے قائم کیا ہے۔سو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس اعتراض کا جواب دے دیا ہے۔فرماتا ہے کہ یہاں اپنی عزت کا کوئی سوال ہی نہیں۔اس وجود نے اپنی ساری عزتیں میرے لئے قربان کر دی ہیں اور نہ اس کے ذاتی وقار کا کوئی سوال ہے۔کیونکہ اس کی زندگی کا ہر لحظہ توحید کے قیام کے لئے ہے اسی لئے میں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے برکت پر برکت دی جائے گی۔پس ان الہامات میں بتایا گیا ہے کہ یہ برکتیں ہم کیوں دے رہے ہیں !! اور پھر یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ آئندہ مخالفین کی طرف سے جو اعتراض کیا جائے گا وہ غلط ہوگا۔کیونکہ یہ سب کچھ تو حید کے قیام کے لئے کیا گیا ہے۔اس میں حضور کی کوئی اپنی ذاتی غرض پوشیدہ نہیں ہے۔پھر ان الہامات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ وقت قریب ہے۔جب یہ پیشگوئی پوری ہو جائے گی۔فرمایا:۔وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دلوں میں تیری محبت ڈالے گا