خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1014 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1014

خطبات ناصر جلد اول ۱۰۱۴ خطبہ جمعہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۶۷ء محسوس کرتے ہوں گے کیونکہ دماغ کو پوری غذا نہیں مل رہی ہوتی اور بہت سارے دماغی کام ہیں جن میں روزہ کی وجہ سے بظاہر ہرج واقع ہورہا ہوتا ہے لیکن انسان کہتا ہے کہ میرا دماغ بھی خدا نے مجھے دیا ہے اور جن کاموں میں میں لگا ہوا ہوں ان میں کامیابی بھی اس کے فضل کے بغیر نہیں ہوسکتی۔اس کے فضل کے ساتھ ہی ہو سکتی ہے اس لئے میں اس تنگی کو برداشت کرتا ہوں میں خدا تعالیٰ کے لئے روزے بھی رکھوں گا اس کے لئے راتوں کو بھی جاگوں گا۔اس کے لئے اپنے مال میں سے خرچ بھی کروں گا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ آپ رمضان کے مہینہ میں انتہائی سخاوت کیا کرتے تھے۔پس جو آپ کے اسوہ پر چلنے والا ہے وہ اس مہینہ میں خاموشی کے ساتھ اپنے بھائی کی عزت اور وقار کا خیال رکھتے ہوئے اپنے مال میں سے حسب توفیق اپنے بھائیوں کی جیبوں میں ڈالتا چلا جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے بدلہ میں میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا اور جب میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا تو تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کی معرفت اور ایمان کی مضبوطی پیدا ہوگی اور جنت کے دروازے تمہارے لئے کھولے جائیں گے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رمضان کے مہینے میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں عبادت قبول ہوتی اور فضل نازل ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہنا چاہیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے ہمیں بتایا ہے کہ دعاؤں کے بغیر کوئی زندگی نہیں کیونکہ دعاؤں کے بغیر انسان اپنے رب سے زندہ تعلق قائم نہیں کر سکتا اور جب تک اپنے رب سے زندہ تعلق قائم نہ ہو جائے اس وقت تک یہ زندگی کوئی رہنے کے قابل ہے؟ اگر کتوں کی طرح، اگر سوروں کی طرح، اگر بندروں کی طرح ہم نے زندگی گزارنی ہے تو بہتر یہی ہے کہ ہم یہ زندگی نہ گزاریں اور اگر ہم نے انسان کی طرح زندہ رہنا ہے تو پھر ہمیں اس مقصد کو حاصل کرنا چاہیے جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور اپنے رب سے زندہ تعلق پیدا کرنا چاہیے اور جو تکالیف اور جو مصائب اور شدائد ہم پر ہمارے رب کی طرف سے اس لئے آتے ہیں کہ اس کے ساتھ ہمارا تعلق بڑھے ان ابتلاؤں اور امتحانوں کے وقت میں ہمیں ثبات قدم دکھاتے ہوئے کامیاب ہونا چاہیے اور اس بات کے لئے کوشش کرنی چاہیے کہ ہم واقعہ میں