خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 972 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 972

خطبات ناصر جلد اول ۹۷۲ خطبہ جمعہ ۱۷ نومبر ۱۹۶۷ء طاقتور سمجھتا ہے اور وہ جو قا در و توانا ہے اس سے طاقت حاصل کرنے کے لئے اسلام نے جو ذ رائع بتائے ہیں ان ذرائع کو استعمال نہیں کرتا یہ متکبر انسان اپنے لئے اپنے خیالات اور اپنے جذبات اور اپنے اعمال کے نتیجہ میں ایک جہنم پیدا کر رہا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی ان آیات کا ترجمہ کرتے ہوئے کہ اذلِكَ خَيْرٌ نُزُلاً أَم شَجَرَةُ الزَّقُومِ - إِنَّا جَعَلْنَهَا فِتْنَةً لِلظَّلِمِينَ - إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي اَصْلِ الْجَحِيمِ - طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشيطين - الصفت : ۶۳ تا ۶۶) یہ بیان فرمایا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ تم بتلاؤ بہشت کے باغ اچھے ہیں یا زقوم کا درخت جو ظالموں کے لئے ایک بلا ہے وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے یعنی تکبر اور خود بینی سے پیدا ہوتا ہے یہی دوزخ کی جڑ ہے اس کا شگوفہ ایسا ہے جیسا کہ شیطان کا سر ، شیطان کے معنی ہیں ہلاک ہونے والا یہ لفظ شیط سے نکلا ہے پس حاصل کلام یہ ہے کہ اس کا کھانا بلاک کن ہے تو جہنم کی جڑ تکبر اور خود بینی ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تفسیر کے مطابق اللہ نے قرآن کریم کی ان آیات میں اس بات کی وضاحت کی ہے تو کوئی شخص ایک ہی وقت میں متکبر اور جنتی نہیں بن سکتا۔کیونکہ جس کے دل سے زقوم کا درخت نکلے جس کے دل اور جس کی روح میں دوزخ اور جہنم پرورش پا رہی ہے اس کے لئے جنت کے دروازے کیسے کھولے جاسکتے ہیں۔اس کے مقابلے میں وہ انسان ہوتے ہیں جو اپنے نفس کو پہچانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انسان ایک بشر ہے اور ساری بشری کمزوریاں اس کے ساتھ لگی ہوئی ہیں انسان کی فطرت بدی کی طرف مائل ہوتی ہے اور وہ یہ جانتے ہیں کہ ہم محض اپنی کوشش اور اپنے زور سے اپنے نفس کی اس رنگ میں اصلاح نہیں کر سکتے کہ وہ خدا تعالیٰ سے دور ہونے سے بچ جائے اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہو۔فی ذاتنا ہمارے اندر کوئی طاقت نہیں اس لئے ایسا شخص اپنی فطرت کو کمزور پائے ہوئے اس یقین پر قائم ہوتا ہے کہ میرے اندر کوئی کمال نہیں میں نے ہر کمال اللہ تعالیٰ کی کامل ذات سے حاصل کرنا ہے۔میرے اندر کوئی قدرت اور طاقت نہیں میں نے سب طاقتیں ، طاقتوں کے منبع سے حاصل