خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 973
خطبات ناصر جلد اول ۹۷۳ خطبہ جمعہ ۱۷ نومبر ۱۹۶۷ء کرنی ہیں میرے اندر کوئی علم نہیں وہ جس کے علم نے ذرہ ذرہ کا احاطہ کیا ہوا ہے اسی سے میں نے علم کو حاصل کرنا ہے اور میرے اندر کوئی نور نہیں جب تک میرا آسمانی باپ میرے لئے نور اور روشنی کے سامان پیدا نہ کرے تب وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور استغفار کرتا ہے۔استغفار کے صحیح معنی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان کئے ہیں یہ ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرے کہ اس کی بشری اور فطری کمزوریوں کو اللہ تعالیٰ ڈھانک دے اور دبا دے اور وہ اُبھریں نہ !!! اور ظاہر نہ ہوں۔تو ایسا شخص جو اپنی فطرت کو اور اپنے نفس کو پہچانتا ہے اور اس کی فطری کمزوریوں کی معرفت رکھتا ہے وہ شخص تکبر کو جہنم کی جڑ سمجھتا ہے اور جنت اور خدا کی رضاء کے حصول کے لئے بے نفسی کی زندگی گزارتا ہے وہ ہر وقت اپنے رب کے حضور جھکا رہتا ہے اور ہر آن اس سے یہ درخواست کرتا ہے کہ اے میرے رب ! میرے اندر کوئی کمال نہیں تو میری استعداد کے مطابق مجھے کمال دے۔میرے اندر کوئی روشنی نہیں لیکن میں روشنی سے محبت رکھتا ہوں تو نور کے سامان میرے لئے پیدا کر دے میں جاہل ہوں علم کا کوئی دعوی نہیں رکھتا لیکن اس یقین پر قائم ہوں کہ تو ہر علم کا سرچشمہ ہے اس چشمہ سے مجھے سیراب کر اور جو شخص جتنا جتنا استغفار کو اپنا شعار بناتا چلا جائے اتنا ہی وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آجاتا ہے اور شیطانی حملوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا ہی پیارا فقرہ فرمایا ہے کہ خواہش استغفار فخر انسان ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ ”جو شخص کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا اور پھر ہمیشہ کے لئے استغفارا اپنی عادت نہیں پکڑتا وہ کیڑا ہے نہ انسان اور اندھا ہے نہ سوجا کھا اور نا پاک ہے نہ طیب۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ اسلامی عقیدہ کے موافق بهشت و دوزخ انہی اعمال کے انعکا سات ہیں جو دنیا میں انسان کرتا ہے یعنی تکبر اور خود بینی وہاں دوزخ کی آگ کا روپ لے لیتی ہے اور انکسار اور بے نفسی جس کے نتیجہ میں انسان بے اختیار ہو کر بڑی کثرت کے ساتھ ہر وقت اور ہر آن خدا تعالیٰ سے استغفار کرتارہتا ہے اس کا یہ فعل اور یہ احساس اور اس کے یہ اعمال جنت کے باغات اور جنت کی نہروں اور جنت کے میووں میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو جس طرح دوزخ کی جڑ انسان کے نفس میں ہے اسی طرح جنت کا منبع بھی خود انسان کے اندر ہے