خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 910
خطبات ناصر جلد اوّل ۹۱۰ خطبہ جمعہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۶۷ء ہمارا کوئی حق ہے انسان کا کوئی حق اپنے رب پر نہیں اور ہمارے رب کے سب حقوق ہم پر ہیں ان کو پہچاننا چاہیے اور دعا اپنی شرائط کے ساتھ کرنی چاہیے اور دعا جو ہے اس کے فلسفہ کو سمجھنا چاہیے اور دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر قادر سمجھنا چاہیے۔جو شخص خدا کو قادر نہیں سمجھتا اس کی دعا کیسے قبول ہوگی، کیونکہ وہ اپنی دعا میں اس ہستی کو مخاطب نہیں کر رہا جس کو ہم اللہ کہتے ہیں، جس کو اسلام نے پیش کیا ہے اس میں نہ کوئی کمزوری ہے اور نہ کوئی نقص ہے۔میں نے ایک واقعہ پہلے بھی بتایا ہے ہمارے ایک یا دو احمدی تھے وہ غلط طور پر قتل کے کیس میں ملوث ہو گئے میں نے تسلی کر لی تھی کہ وہ قاتل نہیں لیکن ہماری دنیا میں گواہوں پر فیصلے ہوتے ہیں ان کا نام مخالفوں نے رکھ دیا اور سیشن جج نے انہیں پھانسی کی سزا بھی دے دی ، پھر ہائی کورٹ میں پھانسی کی سزا، پھر سپریم کورٹ میں پھانسی کی سزا قائم رہی۔ان کے رشتہ داروں نے اس موقع پر کہ سپریم کورٹ نے بھی پھانسی کی سزا کو قائم رکھا تھا اور انہوں نے رحم کی اپیل کی تھی۔مجھے خط لکھا اور اس میں لکھا کہ اس مقدمہ کا یہ پس منظر ہے اور بڑا ہی مشکل بلکہ ناممکن ہے کہ ان حالات میں رحم کی اپیل منظور ہو جائے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ آپ دعا کریں اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو قبول ہو جائے ، انہوں نے اس کے اس طرح خطر ناک حالات لکھے کہ قریب تھا کہ میری قلم یہ فقرہ لکھ جائے کہ اللہ کی جو رضا ہو اس پر راضی رہنا۔یکدم پیچھے سے ایک غیبی طاقت نے مجھے اپنے تصرف میں لے لیا اور میں اس سوچ میں پڑ گیا کہ کیا میں ایک احمدی کو یہ سبق دوں کہ اس قسم کے مایوسی اور ناامیدی کے حالات میں ہمارے رب کے پاس طاقت اور قدرت باقی نہیں رہتی اور میرے قلم سے جو فقرہ نکلنے لگا تھا اس کی بجائے میں نے یوں لکھا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی بات انہونی نہیں ہے اس واسطے مایوس نہیں ہونا چاہیے، چند روز کے بعد ان کی اپیل منظور کر لی گئی اور وہ بری کر دیئے گئے۔اس کا اس دوست پر اتنا اثر تھا کہ انہوں نے مجھے خط لکھا کہ میں اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کو آپ کا وہ خط دکھاتا رہتا ہوں کہ یہ دیکھو اس طرح دعائیں قبول ہوتی ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔پس اللہ تعالیٰ کو قادر جانا چاہیے کن آخری سانس تک ،مثلاً اس میں طاقت ہے کہ سارے ڈاکٹر کہہ دیں کہ یہ مریض مر جائے گا اور اس کا حکم آ جائے تو وہ شخص زندہ رہے گا۔میں نے اپنی خلافت