خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 911 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 911

خطبات ناصر جلد اول ۹۱۱ خطبہ جمعہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۶۷ء کے چھوٹے سے زمانہ میں کئی ایسی مثالیں دیکھی ہیں کہ ڈاکٹروں کی متفقہ رائے تھی کہ فلاں مریض مرجائے گا مگر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور وہ بچ گیا۔سات سات بچیاں ہوئی ہیں بچہ نہیں ہو رہا اب عام حالات میں کہیں گے کہ شاید میاں بیوی کے جسمانی اعضاء ہی کچھ اس قسم کے ہیں کہ لڑکی ہوگی اور وہ مایوسی کے عالم میں ہیں اور چھ سات بچے تو ویسے ہی ماں کے لئے پیدا کرنا اور ان کو پالنا بڑی کوفت کا کام ہے بڑی قربانی کا کام ہے لیکن پھر بھی ان کی خواہش ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی جاتی ہے تو لڑکا پیدا ہو جاتا ہے، یہاں بھی اور افریقہ میں بھی بعض ایسی مثالیں ہیں کہ دعا کروائی اور لڑکا ہو گیا، اس لئے نہیں کہ دعا کرنے والے میں کو ئی خوبی تھی بلکہ اس لئے کہ جس سے مانگا گیا تھا اس میں ساری قدرت اور طاقت تھی۔تو اللہ تعالیٰ کو قادر مطلق سمجھنا چاہیے کسی وقت بھی یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ کوئی چیز اس کی طاقت سے پرے ہے کونسی چیز ہے جو خدا کی طاقت میں نہیں ہے؟ ؟ ؟ تو دعا کرتے وقت اس کی طاقت کو پہچانا چاہیے اور ہر چھوٹی اور بڑی چیز میں اپنے کو اس کا محتاج سمجھنا چاہیے دعا کے لئے بڑی ضروری شرط ہے یہ !!! اسی واسطے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بوٹ کا ایک تسمہ اگر چاہیے تو یہ نہ سمجھنا کہ بوٹ کا تسمہ ایک چھوٹی سی چیز ہے ہم خود لے لیں گے بلکہ اس کے لئے بھی تم دعا کرو، کیونکہ اگر خدا تعالیٰ اپنا فضل نہ کرے تو تم بوٹ کا تسمہ بھی حاصل نہیں کر سکتے اپنی طاقت اور زور اور کوشش سے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کو تسمہ چاہیے بازار جائے تو راستہ میں کسی موٹر کے نیچے آ کر مر جائے ختم ہونے والی چیز ہے۔تو ہر وقت خود کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھنا چاہیے چھوٹی سے چھوٹی چیز کے لئے بھی ہمیں اس کی مدد کی ضرورت ہے اور بڑی سے بڑی چیز کے لئے بھی ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ہمارے لئے کوئی چیز بڑی ہے کوئی چھوٹی ہے مگر اس کے لئے ہر چیز ہی آسان ہے اس کے لئے تو چھوٹی بڑی کوئی چیز نہیں نہ !!! جب وہ دینے پر آئے تو ہمالیہ جیسی نعمتیں دے دے اس کے خزانہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا جب وہ نہ ماننے پر آئے تو کہہ دے کہ جوتی کا تسمہ بھی نہیں دوں گا اس کی شان ہے جو چاہے کرے۔تو اس کی قدرتوں پر یقین کامل اور اپنی احتیاج کا احساس کامل ہونا چاہیے اور یہ یقین ہونا