خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 907 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 907

خطبات ناصر جلد اوّل ۹۰۷ خطبہ جمعہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۶۷ء ہوتا ہے جس کے وہ نائب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی طفیلی طور پر ان پر اپنا فضل کر رہا ہوتا ہے۔ہمیں امت مسلمہ میں جو کچھ ملتا ہے حقیقت ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ملتا ہے۔کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آزاد ہو کر کوئی روحانی رتبہ یا مقام حاصل کرے یہ ناممکن ہے۔ہماری پہلی تاریخ میں ایسا نہ کبھی ہوا نہ آئندہ کبھی ہو سکتا ہے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی کسی برکت کی امید رکھتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنے آپ کو طفیلی بنائے۔كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَمَ وَتَعَلَّمَ۔کہ برکت کا منبع انسان کے لئے اس دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے آپ کو چھوڑ کے کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا خواہ کوئی ایک عام مسلمان ہو خواہ کوئی ولی اللہ ہو خواہ وہ مجد د ہو خواہ کوئی ظلی نبی ہو خواہ کوئی اس نبی کا خلیفہ ہو، خلیفہ وقت کو بھی جو کچھ ملتا ہے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل میں ، آپ کے ظل کی حیثیت سے آپ کے سلسلہ کے ایک نائب کی حیثیت سے ملتا ہے، آزادانہ طور پر کچھ بھی نہیں ملتا۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دنیا کو خدا کی طرف بلا یا تھا اور کوئی ایسی بات نہ کی تھی ، نہ دعا کے میدان میں نہ کسی اور میدان میں جود نیا کو خدا سے دور لے جانے والی ہو تو جن کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ کے ظل کی حیثیت سے مل رہا ہے وہ کس طرح اس مقام کو حاصل کر سکتے ہیں یا اس مقام کو اپنا سکتے ہیں کہ وہ بندے اور خدا کے درمیان حائل ہو جا ئیں۔تو یہ نکتہ میں در اصل اس نو جوان کو سمجھا نا چاہتا تھا جو ابھی احمدیت میں داخل نہیں ہوا کہ یہ نہ سمجھو کہ میں بڑا آدمی یا انسان ہوں یا کوئی اور بندہ دنیا میں ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ تم تو خدا سے دور بھا گو اور تمہارے لئے وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور نعمتوں کی جھولیاں بھر کے لائے اور تمہاری گود میں ڈال دے، پھر لوگوں کو خدا کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی، پھر تو وہ دنیا کی عیش میں یا دنیا کے دھندوں میں مبتلا رہیں گے اور مطمئن بھی ہوں گے کہ جب ضرورت پڑی فلاں واسطہ ہے ہم اپنا مطلب اس کے ذریعہ حاصل کر لیں گے۔یہ واسطے اسلام نے ہمیں نہیں بتائے نہ اسلام انہیں صحیح اور درست سمجھتا ہے ہر ایک کو