خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 906
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۲۲ ستمبر ۱۹۶۷ء جانے کے بعد بھی اپنے دلوں کو اس کی محبت سے لبریز اور سکون سے پر پاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جو بھی اس نے ہم سے سلوک کیا ہے پیارا سلوک کیا ہے۔ہم سے غصے کا، یا نفرت کا، یا حقارت کا یا قہر کا سلوک نہیں کیا کیونکہ ان کی زندگیوں میں یہی نظر آتا ہے۔ساری عمر میں ان کا مشاہدہ یہی ہوتا ہے۔کچھ اور ہیں جو یا تو اپنے رب کو پہچانتے نہیں یا اگر پہچانتے ہیں تو اس کی محبت کے جلووں سے بالکل غافل ہیں اور اپنی زندگیوں میں انہوں نے اس محبت کے جلوے کا کبھی مشاہدہ نہیں کیا۔ان کو اپنے رب کی طرف اپنے پیدا کرنے والے کی طرف ،اپنے محسن کی طرف، اس کی طرف جس سے انسان سب کچھ پاتا اور جس کو چھوڑ کے ہر چیز ضائع کر دیتا ہے لانا ضروری ہے اور اس کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کا فضل حاصل کرنا چاہتے ہوتو تمہیں مجاہدہ کرنا پڑے گا۔خود مجاہدہ نہ کرو، خود قربانیاں نہ دو خود ایثار کے نمونے نہ دکھاؤ خود احکام الہی کے کار بند نہ بنو اور یہ سمجھ بیٹھو کہ کوئی پیر یا مرشد اور شخص جو ہے فقیر یا مجذوب تمہارے لئے خدا کے پاس جائے گا اور تمہارے لئے اس کی دعا قبول ہو جائے گی ، یہ غیر معقول بات ہے اور غیر اسلامی ، نہ عقل اسے تسلیم کرتی ہے نہ اسلام نے اس کی تعلیم دی ہے۔نبی کی دعا اسی کے لئے قبول ہوتی ہے کہ جو خود اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنے والا ہو اور نبی کے ساتھ یکجائی ہو جائے ، اس کا اپنا فکر اور تدبر کوئی نہ رہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت مثلاً صحابہ نے یہ رنگ اختیار کیا وہ چلتے پھرتے ،حسب استعدادا ایک نمونہ تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا۔بالکل وہی رنگ ، اسی نہج پر سوچنا، اسی راستہ پر خدا کی راہ میں قدم مارنا ، کوئی فرق نہیں تھا۔کیونکہ انہوں نے ” فنافی الرسول کا مقام حاصل کر لیا تھا۔تب خدا تعالیٰ طفیلی طور پر ان کی دعائیں قبول کر لیتا تھا اور بعض دفعہ اللہ تعالیٰ یہ بتانے کے لئے کہ تمہاری دعا ئیں جب قبول ہوتی ہیں تو طفیلی طور پر قبول ہوتی ہیں ان کی دعا ئیں تو رد کر دیتا تھا، لیکن وہی دعا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے مانگتے تھے تو وہ قبول کر لیتا تھا تا کہ ان لوگوں کو پتہ لگے کہ اس پاک اور مقدس وجود کے مقابلہ پر کھڑا نہیں ہونا، کیونکہ تمہیں روحانیت میں جو کچھ ملا ہے وہ طفیلی طور پر ملا ہے۔ایک حد تک چھوٹے پیمانے پر خلفاء وقت کا بھی یہی حال ہوتا ہے کیونکہ جو کچھ انہوں نے لیا ہوتا ہے وہ اپنے رسول متبوع سے لیا