خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 825
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۲۵ خطبہ جمعہ ۲۵ /اگست ۱۹۶۷ء دوستوں کے ساتھ تعلق بھی رکھتا ہے۔ہمارے ملک میں تو رواج نہیں وہاں یہ رواج ہے کہ اگر کوئی آدمی جس کو وہ بڑا سمجھیں ان کے ملک میں آجائے تو وہ اسے ریسیو کرتے ہیں۔Reception دیتے ہیں اور یہ ایک فارمل سی چیز ہے پندرہ منٹ کے قریب عرصہ کے لئے یہ تقریب منائی جاتی ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ ہم اس شخص کو اپنے میں شامل کر رہے ہیں اور یہ اس شخص کے لئے احترام اور عزت کا ایک مظاہرہ ہوتا ہے۔چنانچہ افتتاح سے دوسرے روز انہوں نے میرے اعزاز میں ری سپشن دی تو وہاں انہوں نے مجھے بتایا کہ میں بھی افتتاح کے موقعہ پر موجود تھا حالانکہ ہم میں سے کسی نے بھی انہیں نہیں دیکھا۔چنانچہ معذرت کی گئی کہ لوگ چونکہ بڑی تعداد میں جمع تھے اس لئے ہم نے آپ کو دیکھا نہیں۔افتتاح کے روز قریباً سوا سو آدمیوں کے لئے کھانا کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔چائے اور پیسٹری کا انتظام تھا لیکن یہ کھانا ان لوگوں کو بھی کھلایا گیا جو اس موقع پر بلائے نہیں گئے تھے ہمارے آدمی باہر جاتے اور بعض لوگوں کو پکڑ کر اندر لے کر آتے اور انہیں کھانا کھلاتے۔کھانا میں خدا تعالیٰ نے ایسی برکت دی کہ وہ ختم ہونے میں نہیں آتا تھا۔کوئی تین سو کے قریب آدمیوں نے کھانا کھایا۔ہمارے مقامی احمدی دوست بڑے حیران تھے کہ چھوٹے پیمانہ پر انتظام تھا جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر کے کھانے کو بھلا کون ختم کر سکتا ہے۔وہاں کے پریس نے پہلے اسلام کے خلاف بعض غلط باتیں شائع کر دیں لیکن بعد میں خود ہی ان باتوں کی تردید بھی کر دی۔السٹریٹڈ ویکلی اور دوسرے کئی اخباروں نے ایک ایک صفحہ مسجد کے افتتاح کے لئے دیا جو ان ملکوں کے لئے تو کیا دوسرے ملکوں کے لئے بھی ممکن نہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہر رنگ میں اس سرور کے سامان کر دیئے جو مجھے رؤیا میں دکھایا گیا تھا اور ابھی اس کے بہت سارے حصے باقی ہیں جب میں ان تک پہنچوں گا تو ان کے متعلق کسی قدر تفصیل سے بیان کروں گا۔میں آج خطبہ لمبا کرنا چاہتا ہوں۔نمازیں (جمعہ وعصر ) جمع کراؤں گا۔آج شام تک اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو دوستوں کے لئے پروگرام بنایا ہوا ہے سوائے اس کے کہ آپ تھک جائیں۔اگر آپ تھک جائیں تو مجھے بتا دیں۔