خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 826 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 826

خطبات ناصر جلد اول ۸۲۶ خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۶۷ء پھر ڈاک میں روزانہ کوئی نہ کوئی خط ایسا ہوتا جس میں کوئی مبشر خواب ہوتی اور میں اسے پڑھ کر بڑا خوش ہوتا۔کیونکہ اعتراض والی خواب سے جو دو نتیجے میں نے نکالے تھے انہیں پورا ہوتے دیکھتا بشارتیں مل رہی تھیں اور ان کا اعلان ہو رہا تھا اور ہم اس بات سے خوش ہورہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے سرور کے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔اگر کوئی دماغ اعتراض کرتا ہے تو ہمیں اس سے کیا۔ہمیں ایسے دماغ پر رحم آتا ہے غصہ نہیں آتا کیونکہ وہ قابل رحم ہوتا ہے۔ایک طرف اللہ تعالیٰ اپنی بشارتوں کی بارش برسا رہا ہے اور دوسری طرف ایک ایسا شخص ہے جس کے دماغ کو اعتراض سوجھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ انسانی وساوس سے ہر ایک کو ہی محفوظ رکھے۔غرض ہر بات میں ہمیں سرور مل رہا تھا اور ہم خوش ہو رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے سرور کے سامان کر رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت سے یہ فرمایا ہے کہ سچی اور جھوٹی خواب میں ایک فرق ہے۔جھوٹا خواب جو انسان کا نفس بنائے یاوہ شیطان کا القا ہو اس کے پیچھے طاقت نہیں ہوتی۔ایسا خواب پورا نہیں ہوتا۔لیکن خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا انسان احاطہ نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ جو بشارتیں دیتا ہے ان کو پورا کرنے کے بھی وہ سامان پیدا کرتا ہے۔ان کو پورا کرنے کی ذمہ داری خدا تعالیٰ پر ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اس ذمہ داری کو اٹھا رہا ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ میں تمہیں یہ بتا رہا ہوں اور میں اسکو پورا بھی کروں گا۔انسانی غفلت کے نتیجہ میں کوئی نسل ان بشارتوں سے محروم رہ جائے تو یہ ان کی بد بختی ہے ورنہ خدا تعالیٰ کی کوئی بشارت ایسی نہیں ہوتی جو پوری نہ ہو۔غرض خدا تعالیٰ اپنی بشارتوں کو بہر حال پورا کرتا ہے۔اگر کوئی ابتلا آ جائے اور کوئی حصہ قوم کا ان سے محروم رہ جائے تو یہ اور بات ہے۔میں نے بتایا ہے کہ بشارتیں مل رہی تھیں اور ہمارے لئے خوشی کے سامان ہورہے تھے۔اب میں ان سامانوں کو لیتا ہوں جو اس سفر کے دوران اللہ تعالیٰ نے مختلف رنگوں میں کئے۔میرے دورے کی دو اغراض تھیں ایک اپنے بھائیوں بہنوں اور بچوں بچیوں کو ملنا ان سے واقفیت حاصل کرنا اور معلوم کرنا کہ کس قوم میں کس قسم کی کمزوری ہے تا ہم کسی نہ کسی رنگ میں