خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 52
خطبات ناصر جلد اول حکمت اور وجہ کے نہیں ہوسکتا۔۵۲ خطبه جمعه ۲۴؍دسمبر ۱۹۶۵ء دوسرے اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ کے یہ معنی بھی ہیں کہ اس کے بارے میں قرآن کریم نے تاکیدی اور تفصیلی احکام نازل کئے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں کوئی حکم تاکید کے ساتھ نازل فرماتا ہے تو اس لئے نازل فرماتا ہے کہ اس حکم کو بجالا کر بندہ اپنے رب کی بہت سی برکتوں کو حاصل کر سکے۔تیسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں کہ بار بار سارا قرآن کریم نازل ہوتا رہا۔کیونکہ احادیث میں یہ امر بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ ہر رمضان کی پہلی رات سے آخری رات تک حضرت جبریل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول فرماتے اور اس وقت تک جتنا قرآن کریم نازل ہو چکا ہوتا۔آپؐ سے مل کر اس کا دور کرتے۔اس طرح وہ نازل شدہ قرآن آپ پر پھر ایک دفعہ بذریعہ وحی نازل ہوتا اور ہر سال ایسا ہوتا تھا۔بخاری میں یہ حدیث یوں درج ہے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِيْنَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ - یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔آپ کی جودوسخا کو کوئی شخص نہیں پہنچ سکتا تھا نہ پہنچا اور نہ ہی آئندہ بھی پہنچے گا۔لیکن آپ کی یہ سخاوت رمضان شریف کے مہینہ میں اور بھی بڑھ جاتی اور وہ اس لئے کہ رمضان میں جبریل علیہ السلام نازل ہوتے فَيُدَارِسُهُ الْقُرآن اور آپ سے مل کر قرآن مجید کا دور کرتے۔ان دنوں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آسمان سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو بارش کی طرح اترتے دیکھتے تو آپ کی سخاوت اور جو دو کرم میں بھی ایک تیزی پیدا ہو جاتی اور آپ ان ہواؤں کی نسبت بھی جو موسلا دھار بارش لاتی ہیں زیادہ سخی نظر آتے۔انْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ فرما کر گویا یوں کہا کہ اے میرے بندو! دیکھو یہ رمضان وہ ہے کہ جب