خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 51 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 51

خطبات ناصر جلد اوّل ۵۱ خطبه جمعه ۲۴؍دسمبر ۱۹۶۵ء اور وہ جو کچھ تلاش کرتا ہے اس کا مفہوم بھی ہمیں اسی لفظ سے ہی سمجھ میں آ سکتا ہے کہ اس کا مطلوب ہرن اور تیتر کا شکار نہیں ہوتا چنا نچہ الرفض کے ایک اور معنی عربی میں الْمَطْرُ يَأْتِي قَبْلَ الْخَرِيفِ فَيَجِدُ الْأَرْضُ حَازَةٌ مُخْتَرِقَةً ہیں یعنی وہ بارش جو گرمی کی شدت کے بعد اور موسم خزاں سے پہلے آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جب وہ نازل ہوتی ہے تو زمین پوری طرح تپی ہوئی اور جلی ہوئی ہوتی ہے لیکن جب وہ بارش نازل ہوتی ہے تو اس تپش کو دور کر دیتی ہے۔اس جلن کو مٹا دیتی ہے اور سکون کے حالات پیدا کر دیتی ہے۔تو یہاں سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کا ایک مومن بندہ رمضان کے مہینے میں جنونی شکاری کی طرح بھوک اور پیاس اور دوسری تکالیف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے جس مطلوب کی تلاش میں نکلتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بارش ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اس رحمت کی بارش کے بغیر میرے دل کی جلن دور نہیں ہو سکتی میرے اندر جو آگ لگی ہوئی ہے وہ بجھ نہیں سکتی جب تک کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بارش نازل نہ ہو پس یہ تمام مفہوم لفظ رمضان کے اندر ہی پایا جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ایک ایسا مہینہ ہے کہ میرے بندوں کو چاہیے کہ وہ راتوں کے تیروں ( دعاؤں) کو تیز کریں اور جنونی شکاری کے جنوں سے بھی زیادہ جنوں رکھتے ہوئے میری رحمت کی تلاش میں بل پڑیں تب میری رحمت کی تسکین بخش بارش ان پر نازل ہوگی اور میرے قرب کی راہیں ان پر کھولی جائیں گی۔شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ - فرمایا یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو بہت ہی برکتوں والا ہے۔کیونکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا یا جس کے بارے میں قرآن کریم نے تعلیم دی یا جس میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا۔اُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ کے اندر تین باتیں بیان کی گئی ہیں:۔اول یہ کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نزول قرآن کریم کی ابتداء ہوئی۔احادیث اور دوسری کتب ( تاریخ ) سے پتہ چلتا ہے کہ رمضان کے آخری حصہ میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا تھا۔تو مہینے کا انتخاب اور پھر رمضان کے آخری حصہ کا انتخاب جو خدائے تعالیٰ نے کیا وہ بغیر کسی