خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 53 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 53

خطبات ناصر جلد اول ۵۳ خطبه جمعه ۲۴؍دسمبر ۱۹۶۵ء قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا تو اسی مہینہ میں شروع ہوا۔دوسرے گیارہ مہینے بھی تو تھے ان میں بھی نازل کیا جا سکتا تھا مگر خدا تعالیٰ نے اپنی بالغ حکمت اور اپنے کامل علم کی بنا پر نزول قرآن کریم کے لئے اسی مہینہ کو چنا اور اسی میں اس کے نزول کی ابتدا ہوئی۔پھر کتنی تاکید کے ساتھ ، کتنی حکمتیں بیان کرنے کے بعد اور کتنے دلائل دے کر اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا کہ رمضان کے مہینے میں روزے رکھو اور عبادات پر زور دو تا الہبی فضلوں کے تم وارث بنو۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری نگاہ میں اس مہینے کی اتنی قدر ہے کہ میں ہر سال اس مہینہ میں جبرئیل کو بھیجتا ہوں تا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر قرآن کریم کا دور کرے۔پس ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تم خود اندازہ کر سکتے ہو کہ کتنی برکتیں ہیں جن کا تعلق اس مہینہ سے ہے اور تمہیں کس قدر کوشش کرنی چاہیے کہ تم ان برکات سے زیادہ سے زیادہ فیض حاصل کر سکو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن جو رمضان کے مہینہ میں اتر نا شروع ہوا اور پھر بار بار اس میں نازل ہوتا رہا۔یہ کوئی معمولی کتاب نہیں جس کے لئے اس مہینہ کو چنا گیا ہے۔بلکہ ھدی للناس یہ وہ پہلی کامل شریعت ہے جو تمام بنی نوع انسان کے لئے بطور ہدایت بھیجی گئی ہے۔ھدایة کے ایک معنی اس الہی شریعت کے ہیں جو انبیاء اللہ اپنے ساتھ لے کر دنیا کی طرف آتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کتاب رمضان کے مہینہ میں اُتری ہے۔هُدًى لِلنَّاسِ یہ تمام بنی نوع انسان کو قیامت تک بحیثیت ایک شریعت کا ملہ فائدہ اور برکت پہنچاتی رہے گی۔ایک معنی هدایة کے یہ بھی ہیں کہ یہ کتاب بنی نوع انسان پر ٹھونسی نہیں گئی بلکہ اس میں انسانی صلاحیتوں اور استعدادوں کے مطابق لوگوں کو عبادات اور اعمالِ صالحہ بجالانے کا طریق بتایا گیا ہے۔مطلب یہ ہوا کہ یہ شریعت جو انسان کے لئے نازل کی گئی ہے وہ اس کی استعدادوں ،صلاحیتوں اور قابلیتوں کو مد نظر رکھ کر نازل کی گئی ہے اور قیامت تک انسان میں جو جو نئی سے نئی قابلیتیں پیدا ہوتی رہیں گی وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں۔کیونکہ ہم عالم الغیب ہیں۔