خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 600 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 600

خطبات ناصر جلد اول ۶۰۰ خطبہ جمعہ ۱۰ مارچ ۱۹۶۷ء کچھ دنیوی سامان دے دیتا ہوں اور تمہارے حقوق ادا کر کے تم کو نیک طریق سے رخصت کر دیتا ہوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور اُخروی زندگی کے گھر کو چاہتی ہو تو اللہ تعالیٰ نے تم میں سے پوری طرح اسلام پر قائم رہنے والیوں کے لئے بہت بڑا انعام تیار کیا ہے۔اے نبی کی بیویو! اگر تم میں سے کوئی اعلیٰ ایمان کے خلاف بات کرے تو اس کا عذاب دگنا کیا جائے گا۔اور یہ بات اللہ پر آسان ہے اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور اس فرمانبرداری کی شان کے مطابق عمل بھی کرے گی۔تو ہم اسے انعام بھی دگنا دیں گے اور ہم نے ہرایسی بیوی کے لئے معزز رزق تیار کیا ہوا ہے۔“ سورۃ احزاب کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرما یا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔فرمایا اَزْوَاجةَ امهتُهُمْ اور آگے جا کر اسی سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے اُمت محمدیہ کو اس طرف بھی متوجہ کیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام امت کے لئے اور ہر زمانہ کے مسلمانوں کے لئے اُسوہ حسنہ ہیں۔تم اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل ہی نہیں کر سکتے اس کی محبت اور پیار کو پاہی نہیں سکتے جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کر کے ، آپ کو اپنے لئے بطور نیک نمونہ سمجھتے اور یقین کرتے ہوئے آپ کے نمونہ کے مطابق اپنی زندگیاں نہیں ڈھالو گے۔جیسا کہ فرما یا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو امت محمدیہ کے لئے اسوہ حسنہ قرار دینے کے بعد اور آپ کی ازواج مطہرات کو مومنوں کی مائیں قرار دینے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ بیویاں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ہیں نکاح کے وقت ان کے ساتھ کوئی ایسا سمجھوتہ نہیں تھا کہ وہ اُمت محمدیہ کے لئے اُسوہ حسنہ بنیں گی اور اس بھاری ذمہ داری کو اٹھا ئیں گی جیسا کہ مومنوں کی مائیں۔بہر حال مومنوں کے لئے اسوۂ حسنہ اور تربیت کا ایک مرکزی نقطہ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ) بنتی ہیں اور کوئی کہ سکتا تھا کہ ان کو جبراً اس مقام پر لا کھڑا کیا اور ان کو یہ حکم دیا کہ تمہیں ضرور تنگی ترشی کو اختیار کر کے اور ہر قسم کی قربانی دے کر اور اس دنیا سے منہ موڑ کر اپنے نفس پر فنا طاری کر کے اُمت کے لئے ایک اُسوہ بننا پڑے گا۔ورنہ ہم تمہیں سزا دیں گے چونکہ مذہب میں خصوصاً