خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 601 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 601

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۰۱ خطبہ جمعہ ۱۰ مارچ ۱۹۶۷ء مذہب اسلام میں جبر جائز نہیں ان کے لئے کوئی راہ نکالنی ضروری تھی اور اگر چہ جیسا کہ عملاً دیکھنے میں آیا ہماری یہ مائیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اُمہات المومنین قرار دیا ہے (سورۃ احزاب میں ) اس قدر تربیت یافتہ تھیں کہ جو اختیار ان کو ان آیات میں دیا گیا۔اس کے بعد ان کے فیصلے نے یہ بتا دیا کہ واقعی وہ اُمہات المؤمنین بننے کی اہل تھیں۔لیکن بہر حال دنیا کو بھی یہ بتانا تھا کہ جبر سے کام نہیں لیا گیا بلکہ اپنی مرضی سے انہوں نے اس اہم اور مشکل ذمہ داری کو اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا۔ان آیتوں کو اختیار دینے کی آیات بھی کہا جاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے جب ان کو امہات المؤمنین اور اُمت محمدیہ کی مسلمان عورتوں کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا تو ان کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کی روشنی میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور وحی آپ پر نازل ہوئیں۔یہ بات پیش کی جس کا ذکر ان آیات میں ہے۔ان آیات کے نزول کے بعد سب سے پہلے آپ حضرت عائشہ کے پاس گئے اور آپ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ اے عائشہ ! میں تم سے ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں لیکن قبل اس کے کہ میں وہ بات تمہارے ساتھ کروں تمہیں یہ تاکید کرنا چاہتا ہوں کہ جواب دینے اور فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لینا بلکہ خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا اور جواب دینا بلکہ بہتر یہ ہے کہ تم اپنے والدین سے بھی اس کے متعلق مشورہ کر لو اور پھر مجھے جواب دو۔اس تمہید کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پر یہ آیات نازل کی ہیں اور ان کو یہ آیات پڑھ کر سنا دیں اور مشورہ دیا کہ تم والدین سے مشورہ کر کے اور خوب سوچ سمجھ کر مجھے بتاؤ کہ تمہیں حیات دنیا اور اس کی زینت چاہیے یا تمہیں خدا اور اس کا رسول چاہیے جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے امہات المؤمنین بڑی ہی تربیت یافتہ تھیں انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! اس معاملہ میں اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں گی؟ مجھے خدا اور اس کا رسول چاہیے دنیا اور اس کی زینت نہیں چاہیے۔اس کے بعد آپ اپنی دوسری بیویوں کے پاس گئے اور ان میں سے ہر ایک نے یہی جواب دیا کہ ہمیں خدا اور اس کا رسول چاہیے دنیا اور اس کی زینت نہیں چاہیے۔مؤرخین اور مفسرین کہتے ہیں کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں