خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 533
خطبات ناصر جلد اوّل ۵۳۳ خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۶۶ء کوشش کرنی چاہیے کہ حضور کی اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں جلسہ میں شمولیت کریں۔اس میں شک نہیں کہ رمضان کی وجہ سے ہمیں جلسہ سالانہ کی تاریخیں بدلنی پڑی ہیں اور تاریخوں کی اس تبدیلی کے نتیجہ میں بعض دوستوں کے لئے پہلے کی نسبت رخصت حاصل کرنے میں زیادہ وقتیں ہوں گی یہ صیح ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ ہمارے راستہ میں روکیں خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں وہ آواز جو ہمارے کانوں میں اپنے امام اپنے مہدی، اپنے مسیح ، اپنے ابراہیم محمدی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند جلیل کی گونج رہی ہے کہ یہ جلسہ سالانہ خدا تعالیٰ نے خود جاری کیا ہے اور تمہیں اس میں اپنے ہر جوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے شامل ہونا چاہیے یہ روکیں اس پیاری آواز کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں دنیا اس پیمانہ سے بھی آپ کو دیکھتی ہے اور دیکھتی رہے گی۔کئی دفعہ ہم سوچتے ہیں کہ جب جلسہ سالانہ پر ایک لاکھ نہیں ایک کروڑ اور پھر کسی وقت اس سے بھی زیادہ آدمی آئیں گے تو ان کے کھانے کا کیا انتظام ہو گا ان کے رہنے کا انتظام کیا ہوگا۔تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ہم نہیں کہہ سکتے۔وہ انتظام کس شکل میں ظاہر ہو گا لیکن ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے انتظام کے کوئی سامان پیدا کر دے گا ہمیں اس کی فکر کرنے اور گبھرانے کی ضرورت نہیں یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور یہ ہوتا رہے گا ہر احمدی کو اس یقین سے پر ہونا چاہیے۔ایک دفعہ جب میں افسر جلسہ سالا نہ تھا۔ہمارا ایک ٹھیکیدار جو جلسہ سالانہ کے موقع پر نانبائیوں کا ٹھیکہ لیا کرتا تھا۔میرے پاس آیا ہم غالباً اُجرت پر متفق نہیں ہو رہے تھے وہ زیادہ اُجرت مانگ رہا تھا اور میں اتنی اجرت دینا نہیں چاہتا تھا۔یا شاید وہ سارے لنگروں کا ٹھیکہ مانگ رہا تھا اور میں ٹھیکہ مختلف آدمیوں کو دینا چاہتا تھا بہر حال کوئی اس قسم کی بات تھی۔وہ کہنے لگا میاں صاحب! پھر تسیں چاولاں دا انتظام کر چھوڑنا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ میں ایسا فتنہ پیدا کروں گا کہ کوئی نانبائی جلسہ سالانہ پر ربوہ میں نہیں آئے گا مجھے غصہ بھی آیا لیکن میری توجہ اپنے رب کی طرف مبذول