خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 534
خطبات ناصر جلد اول ۵۳۴ خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۶۶ء ہوئی اور میں نے اسے کہا ٹھیک ہے، تم سے جو ہو سکتا ہے کر واگر جلسہ سالانہ پر کوئی نانبائی نہ آیا تو ہم یہ نظارہ دیکھیں گے کہ آسمان سے فرشتے اُتریں گے اور وہ روٹیاں پکا ئیں گے اس لئے مجھے کوئی فکر نہیں تم یہاں سے چلے جاؤ اور جلسہ سالانہ کے دنوں میں بھی تم ربوہ نہ آنا بلکہ باہر کے نانبائیوں کو روکنے کے لئے جو تد بیر تم کر سکتے ہو کرنا۔غرض فرشتے تو بہر حال ہمارے لئے آسمانوں سے نازل ہوتے ہیں لیکن چونکہ یہ تدبیر کی دنیا ہے اس لئے وہ ہمارے لئے تدبیر کرتے ہیں اس ٹھیکہ دار نے غصہ کا اظہار بھی کیا ہوگا اور ممکن ہے اس نے نانبائیوں کو روکنے کی کوشش بھی کی ہو یا ممکن ہے فرشتوں نے آکر اس کے دل کو پکڑ لیا ہو اور اسے کہا ہو کہ اس قسم کی بیہودہ بات تمہارے منہ سے نکلی ہے تم تو بہ واستغفار کرو ورنہ ہم تمہیں پکڑتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے کبھی ہمارے راستہ میں اس قسم کی روک نہیں پیدا کی کہ ہمارا کام نا کام ہو جائے یہ صحیح ہے کہ بعض دفعہ ہمیں تکلیف اٹھانی پڑتی ہے بعض دفعہ ہم اپنے عزیز بھائیوں سے یہ درخواست کیا کرتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے دنوں میں ذرا احتیاط برتو۔کھانے کا زیادہ ضیاع نہ ہو یا تم تین روٹیوں کی بجائے اڑھائی روٹیاں کھا لو۔وقتی طور پر اس قسم کی تکلیف ہو جاتی ہے کہ روٹیوں میں کچھ کمی ہو جاتی ہے لیکن یہ کبھی نہیں ہوا کہ کام بند ہو جائے اور کسی کو کچھ سمجھ نہ آئے کہ مہمان آئے ہوئے ہیں ہمیں کیا کرنا ہے۔میں اس وقت تفصیل میں نہیں جانا چاہتا یہ ایک علیحدہ تفصیل ہے کہ ان چند دنوں میں اتنی روٹی کے پک جانے کا انتظام ہی بڑاز بر دست معجزہ ہے میں اس وقت اپنے دوستوں سے ایک بات تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ تمام روکوں کے باوجود اور تمام تکالیف کے باوجود جلسہ سالانہ کے موقع پر مرکز میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں تاکہ دنیا خدا تعالیٰ کی یہ بات اور یہ بشارت پھر پوری ہوتی دیکھے کہ اَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا افَهُمُ الْغَلِبُونَ یعنی اس سال بھی جماعت کا قدم ترقی اور رفعت کی طرف اُٹھا ہے۔تنزل اور پستی کی طرف نہیں اٹھا۔دوسری بات جو میں اس وقت دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایا تھا۔وسغ مكانك اس الہام کی بہت سی تفاصیل اور تشریحیں اور