خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 254 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 254

خطبات ناصر جلد اول ۲۵۴ خطبہ جمعہ ۱۳ رمئی ۱۹۶۶ء کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَالَّذِينَ كَذَبُوا بِايْتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا أُولَبِكَ اَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ - (الاعراف:۳۷) یعنی وہ لوگ جو ہماری آیات کا انکار کرتے ہوئے اور تکبر کرتے ہوئے ان سے اعراض کرتے ہیں وہ دوزخی ہیں۔وہ دوزخ میں ایک لمبے عرصے تک پڑے رہیں گے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کی توجہ اس طرف پھیری ہے کہ ہم اپنی رحمت بے پایاں کے نتیجہ میں تمہاری اصلاح کی خاطر اور تمہارے لئے اپنے قرب اور رضا کی راہیں کھولنے کے لئے آسمانی آیات، نشانات اور معجزات اُتارتے ہیں اور اتارتے رہیں گے۔لیکن تم بھی عجیب ہو کہ جب ہم تم پر اپنے قرب کی راہ کھولنا چاہتے ہیں اور آسمان سے نشانات کو اُتارتے ہیں تو تم اپنے غرور، خود پسندی، اباء اور تکبر کی وجہ سے ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور ان راہوں کو اپنے پر مسدود کر لیتے ہو۔غرض یہاں اللہ تعالیٰ نے استکبار کا ایک نہایت ہی بد نتیجہ یہ بتایا ہے کہ متکبر انسان اللہ تعالیٰ کے نشانات سے وہ فائدہ نہیں اُٹھاتا یا وہ فائدہ نہیں اُٹھا سکتا جس کے لئے اللہ تعالیٰ آسمان سے ان نشانات کو نازل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو لوگ تکبر کی وجہ سے میری آیات کو جھٹلاتے ہیں وہ میرے غضب کی آگ میں پڑنے والے ہیں اور انہیں ایسا درد ناک عذاب پہنچے گا کہ وہ سمجھیں گے کہ یہ عذاب تو ختم ہونے والا نہیں ابد الآباد تک کا ہے۔پھر اسی سورۃ ( سورۃ اعراف) میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔سَاصْرِفُ عَنْ ايْتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَ إِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا ۚ وَ إِنْ يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ۚ وَ إِنْ يَدَوا سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَبُوا بِأَيْتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غُفِلِينَ۔(الاعراف: ۱۴۷) یعنی میں جلد ہی ان لوگوں کو جنہوں نے بغیر کسی حق کے دنیا میں تکبر کیا ہے اپنے نشانوں کی شناخت سے محروم کر کے اور اپنے نشانوں سے جو فائدہ انہیں پہنچ سکتا ہے اس فائدہ سے محروم کر کے انہیں اپنے سے دور کر دوں گا اور اگر وہ ہر ممکن نشان بھی دیکھ لیں تو وہ