خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 253 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 253

خطبات ناصر جلد اول ۲۵۳ خطبہ جمعہ ۱۳ رمئی ۱۹۶۶ء اپنے جیسا نہیں سمجھتے ، پھر اس تکبر کے نتیجہ میں ہر وہ رسم ہر وہ عادت ہر وہ خیال اور ہر وہ اعتقادجو وہ بچپن سے سنتے آئے ہیں قبول کر لیتے ہیں اور جب ان گندی چیزوں کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرماتے ہوئے اور صحیح عقائد ان کے سامنے رکھنے کے لئے اپنے رسول کو بھجواتا ہے اور وہ اس کی لائی ہوئی آسمانی ہدایت کو سنتے ہیں تو بجائے اس کے کہ وہ خدا تعالیٰ کے شکر گزار ہوں اور کہیں کہ ہمارے رب نے ہم پر رحم کیا اور ہمارے لئے ہمارے کسی عمل کے بغیر اور ہمارے کسی استحقاق کے بغیر آسمان سے ہدایت کو نازل کیا تا کہ ہم اپنی پیدائش کے مقصد کو حاصل کر سکیں اور خدا تعالیٰ کے قرب کو پاسکیں انہوں نے وَاتَّبَعَ هَواهُ (الاعراف: ۱۷۷) کے ماتحت اپنی ہی پسند، اپنی ہی خواہش اور اپنی ہی عادتوں کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت ، اس کی تعلیم اور آسمانی نور کے مقابلہ میں افضل ، اعلیٰ اور ارفع سمجھا اور اس طرح وہ الہی ہدایت اور آسمانی نور کے قبول کرنے سے محروم ہو گئے۔سو یہ بھی ایک نہایت ہی بھیا نک ، بڑا اور مہلک نتیجہ ہے جو تکبر کی وجہ سے نکلتا ہے۔اس کے علاوہ یہ آیت اس طرف بھی اشارہ کر رہی ہے کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو کافر ہوئے جو منکر ہوئے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے رسول کو نہیں مانا یہ لوگ تو خدا تعالیٰ کی ہدایت اور نور سے محروم تھے ہی لیکن جو لوگ خدا اور اس کے رسول کو ماننے والے ہیں وہ بھی بعض دفعہ اپنے تکبر کی وجہ سے الہی ہدایت سے محروم ہو جاتے ہیں۔کیونکہ ان کا نفس مثلاً پسند نہیں کرتا کہ کوئی شخص ان کے پاس آئے اور ان کو یہ بتائے کہ تمہارے اندر فلاں کمزوری پائی جاتی ہے تم اسے دور کر و۔وہ کہتے ہیں ہماری بے عزتی ہو گئی یا مثلاً کوئی شخص کسی بڑے مالدار کو یہ کہے کہ دیکھو تم غریبوں پر رحم کیا کرو تو وہ سمجھتا ہے کہ اس شخص نے میری بے عزتی کی ہے اور اس طرح وہ اپنے آپ کو اسلامی حکم سے بالا سمجھنے لگتا ہے اور اپنے آپ کو ان فیوض سے محروم کر لیتا ہے جن فیوض کو وہ اسلامی تعلیم کے ذریعہ حاصل کرسکتا ہے۔تیسری چیز جس کا ذکر قرآن کریم نے اس ضمن میں کیا ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے جو نشانات اور آیات اتارتا ہے ایک متکبر انسان ان کو قبول کرنے کی بجائے ، ان سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اور ان کے نتیجہ میں اپنے رب کا عرفان حاصل کرنے کی بجائے ، ان کی تکذیب شروع