خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 255 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 255

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۵۵ خطبہ جمعہ ۱۳ رمئی ۱۹۶۶ء ان آیات پر ایمان نہیں لائیں گے۔اگر وہ سیدھا راستہ دیکھ بھی لیں تو اسے کبھی اپنا ئیں گے نہیں اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اسے وہ اپنا لیں گے یہ اس لئے ہے کہ انہوں 66 نے ہماری آیات کی (بوجہ تکبر کے ) تکذیب کی اور وہ ان سے غفلت برت رہے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ تکبر کے نتیجہ میں جولوگ میری آیات کو جھٹلاتے ہیں، میں دین میں بھی اور دنیا میں بھی کامیابی کی راہیں ان پر مسدود کر دیتا ہوں۔تکبر ہمیشہ بغیر حق کے ہوتا ہے سوائے بعض شاذ اور استثنائی مظاہروں کے جو گوتکبر نہیں ہوتے لیکن تکبر سے ملتے جلتے ہیں۔جیسا کہ جب مسلمان پہلی بار حج کے لئے مکہ گئے تو اس وقت باوجود جسمانی کمزوری کے وہ طواف کے دوران بڑے اکڑا کٹڑ کر چلتے تھے تا مکہ والے یہ نہ سمجھیں کہ مسلمان مدینہ جا کر کمزور ہو گئے ہیں۔ان کی صحتیں خراب ہوگئی ہیں اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل سے جو صحت اور جسمانی مضبوطی کی صورت میں ان پر تھا محروم ہو گئے ہیں اگر صحابہ کے اس مظاہرہ کو تکبر کا نام دیا جائے تو اسے بغیر حق نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ان کا ایسا کرنا محض خدا تعالیٰ کے لئے تھا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تکبر جو عام طور پر اپنے نفس کی بڑائی کے لئے ہوتا ہے میری کبریائی کے اظہار کے لئے نہیں ہوتا وہ حق کے بغیر ہی ہوتا ہے اور جو لوگ تکبر کی وجہ سے، اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے، اپنے آپ کو کچھ جاننے کی وجہ سے، اپنے آپ کو بڑی عظمت والا ، بڑے جبروت والا ، بڑی طاقت والا ، بڑے مال والا ، بڑی وجاہت والا اور بڑے علم والا سمجھنے کی وجہ سے میری آیات کو جھٹلا دیتے ہیں اور ان کی طرف توجہ نہیں کرتے ختم اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ (البقرة: (۸) ان کے اندر ان بدعملیوں کی وجہ سے ایک ایسی تبدیلی پیدا ہو جائے گی کہ وہ حق کے قبول کرنے سے ہمیشہ کے لئے محروم کر دیئے جائیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب بھی رشد و ہدایت اور کامیابی کا کوئی راستہ ان کے سامنے آئے گا وہ اس راستہ پر نہیں چلیں گے یعنی میری آیات کے جھٹلانے کی وجہ سے جو تکبر کے نتیجہ میں ہو گا اللہ تعالیٰ دین میں بھی اور دنیا میں بھی کامیابی کی راہیں ان پر مسدود کر دے گا۔متکبر انسان کچھ عرصہ کے لئے تو شاید اپنے آپ کو بڑا خوش قسمت سمجھے اور بڑا کامیاب سمجھے لیکن آخر کا ر اسی دنیا میں انہیں اللہ تعالیٰ