خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 138
خطبات ناصر جلد اول ۱۳۸ خطبه جمعه ۱ار فروری ۱۹۶۶ء کے پڑھنے سمجھنے اس سے فیض حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے سے حاصل ہوسکتی ہے۔اولاد کی تربیت اور اس کو قرآن کریم پڑھانے کی اصل ذمہ داری والدین پر ہے انہیں اس کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ان سے سوال کیا جائے گا کہ انہوں نے اپنی اولا د کو اس نعمت یعنی قرآن کریم سے جو انہیں حاصل تھی کیوں محروم کر دیا۔حالانکہ وہ اس نعمت کو اپنی اولاد تک پہنچانے کی اہلیت رکھتے تھے جماعتی نظام کا یہ کام ہے کہ وہ انہیں اس طرف متوجہ کرے جماعتی نظام کا یہ کام ہے کہ وہ اس کام کے لئے بعض سہولتیں مہیا کر دے کیونکہ جب تک جماعتی نظام اس کا ممد و معاون نہ ہو۔انسان اپنی ذاتی الجھنوں کو حل نہیں کر سکتا اور جماعتی نظام تمہاری اس مدد کے لئے تیار ہے وہ تمہیں یہ کہے گا کہ تم پریشان نہ ہو اگر تم اپنی اولا د کو اپنے اوقات میں سے صرف نصف گھنٹہ اور دے دیا کرو اور انہیں قرآن کریم پڑھا دیا کرو تو تمہاری یہ پریشانی دور ہو جائے گی کہ تمہاری اولا د قرآن کریم سے بے بہرہ ہے پھر جماعتی نظام کا یہ کام ہے کہ وہ افراد جو فی الواقعہ اور فی الحقیقت اس قابل نہیں کہ اپنے بچوں کو قرآن کریم پڑھا سکیں ان کے بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کا مناسب انتظام کرے مثلاً ایک غریب خاندان ہے بدقسمتی سے والدین اپنے بچپن میں قرآن کریم ناظرہ نہیں پڑھ سکے اور بدقسمتی سے ان کے قرب و جوار میں کوئی ایسا احمدی دوست بھی نہیں رہتا جو قرآن کریم پڑھانے کے قابل ہوان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ باتخواہ استاد رکھیں اور بچوں کو قرآن کریم پڑھوائیں لیکن ان کے پاس روپیہ نہیں جو اس انتظام پر خرچ کر سکیں ایسی استثنائی حالتوں میں جماعتی نظام کا فرض ہے کہ وہ ایسے بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کا انتظام کرے چاہے اس پر رقم خرچ کرنی پڑے ورنہ اصل ذمہ داری اور فرض والدین کا ہے اگر ماں پڑھی ہوئی ہے یا باپ قرآن کریم ناظرہ جانتا ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بھی قرآن کریم پڑھائیں اور ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم انہیں اس طرف توجہ دلائیں ان پر اخلاقی دباؤ ڈالیں۔انہیں غیرت دلائیں اور انہیں سمجھا ئیں کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں قرآن کریم جیسی نعمت عطا کی ہے تم اپنے چند کھوٹے پیسوں کو تو بطور ورثہ اپنی اولاد میں چلانا چاہتے ہو لیکن قرآن کریم ایسی بڑی نعمت کو اپنے پاس مہیار کھتے ہوئے یہ کیسے برداشت کر سکتے ہو