خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 137 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 137

خطبات ناصر جلد اول ۱۳۷ خطبه جمعه ۱۱ار فروری ۱۹۶۶ء خلاصہ ہے قرآن کریم کا ایک اجمالی خلاصہ خدا تعالیٰ نے اس کے شروع میں سورۃ فاتحہ کی شکل میں بیان کر دیا ہے اور اس کی آخری تین سورتیں بھی اس کا خلاصہ ہیں اور پھر اس کا ایک لفظی خلاصہ خیر بھی ہے اب دیکھو کتنی عجیب بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے سارے قرآن کریم کا خلاصہ صرف ایک لفظ میں بیان کر دیا ہے اور وہ لفظ ”خیر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا کہ الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ کہ اگر تم خیر (اس کا مفہوم جیسا کہ میں نے بتایا ہے بڑا وسیع ہے ) کے حصول کا طریق جاننا چاہتے ہو اگر تم اس کے حصول کے ذرائع سمجھنا چاہتے ہو۔یا تم سمجھتے ہو کہ اس کے حصول کے سلسلہ میں تمہیں کسی مد اور معاون کی ضرورت ہے تو تمہیں قرآن کریم کی طرف رجوع کرنا پڑے گا کیونکہ الْخَيْرُ كُلُهُ فِي الْقُرْآنِ۔خیر سب کی سب قرآن کریم میں ہے۔اسی لئے میں نے اپنے پچھلے خطبہ میں جماعت کو اپنے بچوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانے اور پھر اس کا ترجمہ پڑھانے کی طرف توجہ دلائی تھی۔اس وقت تک اس سلسلہ میں جو رپورٹیں مجھے ملی ہیں۔ان میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جماعت کے بعض افراد باوجود اس کے کہ وہ اپنے بچوں کو قرآن کریم پڑھا سکتے ہیں اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور باوجود اس کے کہ انہیں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔انہوں نے اس کا خیال نہیں کیا۔ایسے احباب کو یا درکھنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے خیر کا حصول چاہتے ہیں اور اپنے خدا کی نظر میں خیر بننا چاہتے ہیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کریم کے پڑھنے پڑھانے کی طرف رجوع کریں اور اس سے خیر حاصل کریں اور پھر اپنی اولا د کو بھی اس طرف لگا ئیں کہ ہر قسم کی خیر قرآن کریم سے ہی مل سکتی ہے اور اگر تم یا تمہاری اولا د قرآن کریم کی طرف پیٹھ کر کے آگے بڑھو گے تو یاد رکھو وہ رستہ جس کی طرف تم جار ہے ہو گے جنت کا رستہ نہیں ہو گا بلکہ جہنم کا رستہ ہو گا غرض الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ ہروہ چیز جو ہماری فطرت کو سیٹسفائی (Satisfy) کر سکتی ہے اسے تسلی اور اطمینان دلا سکتی ہے اس کی ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہے اور پھر وہ غرض جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے صرف قرآن کریم