خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 974 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 974

خطبات ناصر جلد اول ۹۷۴ خطبہ جمعہ ۱۷؍نومبر ۱۹۶۷ء اور یہ منبع جو فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے بیج کے طور پر ہوتا ہے اور انسانی فطرت کو صرف یہ طاقت عطا کی گئی ہے کہ وہ بے طاقت ہو کر اور اپنے نفس میں کوئی ذاتی خوبی اور کمال نہ پاکر اپنے رب کے حضور جھک جائے اور بالائی طاقت کو اپنی طرف کھینچے اور اس طرح پر اس کی جنت حسین نشو و نما کو حاصل کرے۔استغفار تو ہر وقت ہی کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ جن کو توفیق دیتا ہے اور سمجھ عطا کرتا ہے وہ کوئی وقت بھی بغیر استغفار کے نہیں رہتے۔بہت سی چیزوں کا انحصار عادت پر بھی ہوتا ہے اب ہم میں سے بہت سے گھروں سے نکلتے ہیں سودا لینے کے لئے بازار جاتے ہیں ہم اِدھر اُدھر کے پراگندہ خیالات ذہن میں رکھ کر بھی یہ فاصلہ طے کر سکتے ہیں اور ہم استغفار کرتے ہوئے بھی وہی فاصلہ طے کر سکتے ہیں ایک سیکنڈ بھی زیادہ وقت نہیں لگے گا لیکن ایک صورت میں ہم نے اپنا وقت ضائع کر دیا اور دوسری صورت میں ہم نے اپنے وقت کا صحیح استعمال کیا تو یہ عادت ڈالنی چاہیے ہم میں سے ہر ایک کو کہ استغفار کو اپنا شعار بنائے خالی لفظ نہ ہوں جو اس کے منہ سے نکل رہے ہوں بلکہ اسْتَغْفِرُ الله کے ساتھ اس کا یہ احساس بھی پوری شدت کے ساتھ بیدار ہو کہ میں کچھ نہیں ہر طاقت ، ہر علم، ہر روشنی ، ہر بھلائی ، ہر خیر میں نے اپنے رب سے حاصل کرنی ہے میرے اندراپنا ذاتی کوئی کمال نہیں ہے میرے اندر اگر کوئی خوبی میرے خدا نے رکھی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ میں اس بات کا اقرار کروں کہ میرے اندر کوئی ذاتی کمال نہیں اور اپنے رب کے ساتھ تعلق کو استوار اور پختہ کرنے کی کوشش کروں اور پھر ہمارا رب جو بڑا ہی مہربان ہے اور غفور ہے وہ ہماری حالت کو دیکھ کے اور ہماری التجا کوسن کر اپنے فضلوں کو ہم پر نازل کرے اور ہمیں طاقت بھی دے ہمیں علم بھی دے ہمیں روحانی روشنی بھی دے جو اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی یسعی نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ (الحدید : ۱۳) کے مطابق ہمارے کام آنے والی ہو اور ترقی کی راہیں ہم پر کھلتی رہیں اور ترقی کے ہر مقام اور ہر مرحلہ پر ہمارے اندر یہ احساس رہے کہ یہاں تک بھی ہم خدا کے فضل سے ہی پہنچے اپنی طاقت سے نہیں پہنچے۔لیکن جو اگلی منزل ہے اس کے مقابلہ میں یہ بھی ایک ناقص مقام ہے۔