خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 975 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 975

خطبات ناصر جلد اول ۹۷۵ خطبہ جمعہ ۱۷؍نومبر ۱۹۶۷ء اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اس نقص کو بھی وہ اپنے فضل سے دور کر دے اور اس ناقص مقام سے نکال کے ہمیں نسبتاً بہتر مقام تک پہنچا دے اور جو شخص ایسا نہیں کرتا اسے یا درکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی وضاحت سے یہ بیان فرمایا ہے کہ اگر تم استغفار کی بجائے تکبر اور خود بینی میں مبتلا ہو گے تو اپنے سینہ میں اپنے دل میں اپنی روح میں ایک جہنم کی پیدائش کے سامان پیدا کر رہے ہو گے اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔استغفار تو جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ہر وقت ہی کرنی چاہیے ہر آن ہمیں اس طرف متوجہ رہنا چاہیے لیکن بعض اوقات انسان کا ذہن زیادہ صاف ہوتا ہے بعض دوسرے اوقات کی نسبت۔تو ہم میں سے جو دوست وقف عارضی پر گئے ہیں انہوں نے یہ مشاہدہ کیا ہے اور ان کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ چونکہ ہمارے بھائی اخلاص کے ساتھ وقف عارضی کے لئے باہر جاتے ہیں اس وقت وہ دنیوی علائق سے آزاد ہوتے ہیں گھر کا کوئی فکر نہیں ہوتا پوری توجہ کے ساتھ اور پورے انہماک کے ساتھ وہ استغفار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو بڑی کثرت کے ساتھ اپنے پہ نازل ہوتا دیکھتے ہیں تو یہ بھی ایک بہت اچھا موقع ہے استغفار توجہ کے ساتھ کرنے کا تو اس ضمن میں میں اشارۂ جماعت کو اس طرف بھی متوجہ کر دیتا ہوں کہ وقف عارضی کے لئے بڑی کثرت کے ساتھ اپنے نام پیش کریں اور بار بار پیش کریں میں تو سمجھتا ہوں کہ جو شخص ایسا کر سکتا ہو اور اس کے رستہ میں کوئی خاص دشواری نہ ہو کہ جس کو دور کرنا اس کے لئے ممکن ہی نہ ہو تو اسے سال میں ایک سے زائد دفعہ بھی اپنے آپ کو وقف عارضی کے لئے پیش کرنا چاہیے لیکن ہر سال ایک دفعہ تو ضرور اس وقف میں حصہ لینا چاہیے تا کہ ایک قسم کی ٹریننگ اور استغفار کرنے کی تربیت بھی اسے مل جائے اور پھر اللہ تعالیٰ فضل کرے تو جس طرح اس زمانہ میں بہت سے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو نازل ہوتے دیکھا ہے۔کثرت سے استغفار کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور زیادہ کثرت سے ان پر نازل ہوتے رہیں۔سارا سال ہی نازل ہوتے رہیں۔تواستغفار کے معنی یہ ہیں کہ انسان ہر وقت اپنے رب سے یہ درخواست کرتا رہے کہ مجھ