خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 904 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 904

خطبات ناصر جلد اول ۹۰۴ خطبہ جمعہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۶۷ء کیونکہ یہ راہ تو خدا سے دور لے جانے کی راہ ہے خدا کے قرب کی راہ نہیں۔لیکن خلیفہ وقت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق یہ مقام ضرور دیا ہے کہ اگر کسی اور کی دعا رڈ ہو جائے اور خدافضل کرنا چاہے اور پیار کا مظاہرہ کرنا چاہے تو خلیفہ وقت کی دعا قبول ہو جائے گی باوجود اس کے کہ دوسروں کی وہی دعارہ ہو چکی ہے اور اگر خلیفہ وقت کی دعا اللہ تعالیٰ کسی مصلحت کی بنا پر ردکر دے اور اپنی منوانا چاہے تو پھر دنیا میں کوئی ایسا شخص آپ کو نہیں ملے گا کہ جو اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ سے اپنی بات منوا لے۔لیکن اصولاً دعا کا فلسفہ یہی ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے مقابلہ پر وہ حیثیت بھی نہیں رکھتا جتنی ہمالیہ کے مقابلہ پر ایک چیونٹی۔اللہ تعالیٰ بہت دفعہ اپنی منوانا چاہتا ہے اور منواتا ہے۔کوئی ہے دنیا میں جس کا زور اس پر ہو اور کہے کہ میں نے زبر دستی منوانا ہے سوائے کسی پاگل کے، کوئی ایسا دعویٰ نہیں کرسکتا، کوئی مجنون شاید اپنے جنون میں یہ دعویٰ کر دے۔ذراسی سمجھ والا انسان جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہو نہیں کہہ سکتا کہ دنیا میں کوئی وجود ایسا ہے جو اپنے زور سے اللہ تعالیٰ سے بھی بات منوا لے۔کئی مذہبی پاگل ہوتے ہیں، کئی دنیوی پاگل ہوتے ہیں ایسے پاگل دنیا میں پائے جاتے ہیں لیکن جنون حقیقت میں قابل عمل تو نہیں ٹھہر سکتا حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز زبردستی نہیں لی جاسکتی جب وہ دیتا ہے تو یہ اس کا احسان ہوتا ہے جب وہ سنتا ہے تو یہ اس کا احسان ہوتا ہے۔جب وہ مانتا ہے اور دوستانہ تعلق کا اظہار کرتا ہے تو یہ اس کا احسان ہوتا ہے بندے میں کوئی خوبی نہیں ہوتی اور کبھی اپنی منواتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نہیں مانتا۔ہماری اسلامی تاریخ میں کئی ایسے بزرگ جنہوں نے اپنی زندگیاں اپنے رب کی راہ میں وقف کی ہوئی تھیں گزرے ہیں کہ سالہا سال تک انہوں نے بعض دعائیں کیں اور ان کو جواب ملتا رہا کہ تمہاری نہیں سنی جائے گی لیکن وہ اپنے مقام کو پہچانتے تھے انہوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ جب ہماری سنی نہیں جاتی تو ہم جا کے دنیا کمائیں۔انہوں نے کہا کہ سنی جاتی ہے یا نہیں سنی جاتی ہمارا مقام یہی ہے کہ ہم اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں اور اس کی حمد کے ترانے گاتے رہیں اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا ( جیسا کہ ایک مشہور قصہ ہے اس کی تفصیل میں میں نہیں جاتا کہ اللہ تعالیٰ