خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 905
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۶۷ء نے کہا کہ جتنی دعائیں تم نے آج تک کی ہیں سب قبول کی جاتی ہیں۔جب رڈ کرنے پر آیا تو سالہا سال تک رڈ کرتا چلا گیا اور جب ماننے پہ آیا تو ایک منٹ میں سب مان لیں۔یہ اللہ تعالیٰ کے احسان، اس کے فضل اور اس کے پیار کا سلوک ہے ورنہ بندے کی اس میں کوئی خوبی، نہ بندے کو اس پر کوئی فخر زیبا ہے تو وہ بھی اپنے قادر ہونے کا ثبوت دیتا ہے اور دعا کورڈ کر دیتا ہے، کبھی وہ اپنے علام الغیوب ہونے کا ثبوت دیتا ہے اور وہ بندے کو کہتا ہے کہ جو تم مانگ رہے ہو وہ تمہارے حق میں مفید نہیں ، اس لئے میں تمہاری نہیں مانتا اور دل میں سکون پیدا ہو جاتا ہے اور بندہ سمجھتا ہے کہ میرے رب نے مجھ پر بڑا ہی احسان کیا ہے کہ اس نے میری بات نہیں مانی کیونکہ اگر وہ میری بات مان لیتا تو مجھے نقصان پہنچ جاتا۔آپ میں سے جو قبولیت دعا کا تجربہ رکھنے والے ہوں وہ میرے ساتھ اس بات کی گواہی دیں گے کہ بعض دفعہ ایک آدمی دعا کرتا ہے اور وہ قبول ہو جاتی ہے اور بعد میں انسان پچھتاتا ہے کہ یہ دعا کیوں کی عام دعا کرنی چاہیے تھی، خود کوئی مخصوص چیز نہیں مانگنی چاہیے تھی۔کیونکہ تھوڑالو، اگر عام دعا کی جاتی تو زیادہ مل جاتا تو بعض دفعہ اللہ تعالیٰ دعار دکر دیتا ہے اپنے پیار کے اظہار کے لئے ، بعض دفعہ اللہ تعالیٰ دعا قبول کر لیتا ہے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ تمہیں تو غیب کا علم ہی نہیں ہے غلط باتیں تم مجھ سے مانگ لیتے ہو اور اگر میں مان لوں تو تھوڑا سا فائدہ تمہیں پہنچتا ہے اگر تم مجھ پر چھوڑتے تو پھر تمہیں اس سے زیادہ فائدہ پہنچتا۔اپنے بندوں سے اللہ تعالیٰ مختلف رنگ میں پیار کا سلوک کرتا ہے اور انہیں سبق دیتا ہے اپنے حسن کے جلوے بھی ان پر ظاہر کرتا ہے اور اپنے احسان کے جلوے بھی ان پر ظاہر کرتا ہے۔تو بنیادی چیز دعا کے متعلق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے بندہ زبردستی کوئی چیز اس سے لے نہیں سکتا ، بہت دفعہ وہ اپنی منوانا چاہتا ہے اور منواتا ہے کیونکہ وہ قادر ہے بہت دفعہ وہ احسان کرتے ہوئے اپنے بندے کی مانتا اور اپنے پیار کا اس سے سلوک کرتا ہے کوئی شخص خود کو اس کے مقربین میں سے بت بنا کے اس کی راہ میں حائل نہیں ہوتا اس کے بندے کارے یک۔۔۔باشد کا سلوک بھی مشاہدہ کرتے ہیں۔(اپنی زندگیوں میں ) اور اس کے بندے دعاؤں کے رد ہو