خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 903 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 903

خطبات ناصر جلد اوّل طرف نہیں جھکتا۔۹۰۳ خطبہ جمعہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۶۷ء تو خدا تعالیٰ کے بندے لوگوں کو کہتے ہیں کہ تم خدا کو پہچا نو اس کی معرفت کو حاصل کرو، اس کی صفات کو اپنے اندر منعکس کرو اور اس کا قرب حاصل کر کے اس سے محبت کا تعلق قائم کرو وہ انہیں خدا سے پھیر کر اپنی طرف متوجہ نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ خود ہر ایک بندہ کی دعا کو سن سکتا ہے اور اس کی دعا کو قبول کر سکتا ہے۔دنیا نہیں جانتی اور احمدی بھی جو اس مسئلہ کو سمجھتے ہیں وقتی طور پر بھول جاتے ہیں ابھی چند روز کی بات ہے راولپنڈی میں ایک ایسے نوجوان سے ملاقات کروائی ایک احمدی دوست نے جوابھی احمدیت میں شامل نہیں انہوں نے جب مجھے دعا کے لئے کہا تو میں نے انہیں یہی مسئلہ سمجھانے کی کوشش کی کہ تم خود دعائیں کرو اپنے رب سے مانگو ، میں بھی دعا کروں گا ، اللہ تعالیٰ تمہاری تکلیف کو دور کرے اس وقت بعض دوست بیچ میں بول پڑے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ مسئلہ پھر وہ ٹھیک طرح سمجھ نہیں سکے اس شخص کو جو علم ہی نہیں رکھتا کہ ہمارا رب کتنی قدرتوں والا ، ہمارا رب کتنا پیار کرنے والا اور کتنی دعائیں سننے والا ہے۔پہلے یہ سمجھانے کی ضرورت تھی اور ویسے تو ساری دنیا میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں، جن کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ تم اپنے ربّ کو پہچانو اور یہ نہ سمجھ لو کہ ہمیں خدا کی طرف جانے کی ضرورت نہیں ہمیں خدا سے مانگنے کی ضرورت نہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو احکام دیئے ہیں ان پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں۔ہمیں ایک بت کی تلاش کی ضرورت ہے جو ہمارے اور خدا کے درمیان واسطہ بن جائے ، ہمارے لئے وہ مانگے اور اللہ تعالیٰ سے ، اگر اس راہ کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو پھر بندے کا اللہ تعالیٰ سے تعلق کس طرح پیدا ہوگا۔تو اللہ تعالیٰ کے جو بندے ہوتے ہیں اور جو عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہیں اور عاجزانہ راہوں کا سبق دیتے ہیں وہ بت نہیں بنا کرتے ، وہ دوسروں کو خدا کا چہرہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔تو دعا کے متعلق یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ خود دعا کرنے کی ضرورت نہیں ، خود ملک بننے کی ضرورت نہیں، خود قرآن کریم کے نور سے منور ہونے کی ضرورت نہیں۔خلیفہ وقت کو جا کے کہو اور دعا قبول کروالو، ایسے شخص کے لئے خلیفہ وقت کی دعا بھی قبول نہیں ہوگی رد کر دی جائے گی۔