خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 899
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۹۹ خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء اس جماعت پر ہوا اور پھر وہ سستیاں دکھائے ؟؟؟ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ سستیاں دکھاتے ہیں لیکن میں یہ ضرور کہوں گا اور اصل میرے مخاطب وہی ہیں کہ جو نسبتاً کمزور ہیں۔اب نسبتاً کمزور کا برداشت کرنا بھی کم از کم میرے لئے مشکل ہے، جو کچھ مجھے نظر آ رہا ہے، دنیا جس جہت کی طرف حرکت کر رہی ہے ، جن مصیبتوں میں انسان گرفتار ہونے والا ہے، جس دوا کی اسے ضرورت پڑنے والی ہے، اس دوا کو مہیا کرنے والے سوائے آپ کے اور کوئی نہیں۔ساری دنیا کا آپ کو خدا تعالیٰ نے استاد اور امیر بنایا ہے جو فیصلہ ہو چکا ہے اور آپ استاد اور امیر بننے کے لئے تیاری نہ کریں اس بات سے تکلیف ہوتی ہے ہمارا تو ہر بچہ، ہماری تو ہر عورت ، ہماری ہر لڑ کی ، ہمارا ہر مرد، ہمارا ہر نو جوان، ہمارا ہر بوڑھا تیار رہنا چاہیے پتہ نہیں کون زندہ ہو گا جب آواز آئے گی کہ ہر شخص جماعت احمدیہ کا میدان میں آئے اور دنیا کو استادوں کی ضرورت ہے وہ دنیا کے استاد بنیں اس کے لئے آپ کو تیاری کرنی پڑے گی ور نہ قرآن کریم کی زبان میں آپ منافق کہلائیں گے۔قرآن کریم کہتا ہے۔” کو ارادوا الخروج لاعَدُّ واله عُدَّةٌ ( التوبة : ۴۲) کہ اگر انہوں نے میدانِ عمل میں عملی طور پر جہاد کرنا ہوتا تو وہ اس کے لئے ضرور تیاری کرتے۔آپ نے جہاد کرنا ہے علمی میدان میں ! آپ نے جہاد کرنا ہے مذہب کے میدان میں ! آپ نے جہاد کرنا ہے۔آسمانی تائیدات کے میدان میں ! آپ کو علم سیکھنا پڑے گا۔آپ کو دعاؤں کی مضبوط بنیاد پر اپنی زندگیوں کو کھڑا کرنا پڑے گا تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی نیستی کو دیکھ کر ، آپ کے دلوں میں اپنی محبت کو دیکھ کر آپ کے لئے اپنی معجزانہ قدرت کو ظاہر کرے کہ اس کے بغیر نہ آپ دنیا کے رہبر بن سکتے ہیں نہ اس کے معلم بن سکتے ہیں۔تو اور بھی ذمہ واریاں ہیں لیکن دیر کافی ہو گئی ہے میں بس کرتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو یہ توفیق عطا کرے کہ وہ ان ذمہ واریوں کو سمجھ لے جو اس پر پڑنے والی ہیں خواہ وہ براہ راست اپنے رب سے علم حاصل کریں اور میرے معاون بنیں یا جب میں