خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 898 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 898

خطبات ناصر جلد اول ۸۹۸ خطبه جمعه ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء اس سے محفوظ بھی کر لیا۔کیونکہ پن پرک“ سے زیادہ اور کوئی سامان نہیں کیا گیا۔یہ پین کی وہ نوک ہے۔جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے پہلو میں رکھی ہوئی ہے چھتی تو ہے لیکن ہمارے جسم پر زخم نہیں پیدا کرتی نہ کر سکتی ہے جب تک ہم زندہ ہیں۔جب مر جائیں اور ساری ٹہنیاں خشک ہو جا ئیں۔تو ایک خشک دوسرے خشک میں فرق نہیں رہتا نہ اس درخت کو کوئی پرواہ ہوتی ہے سارے جومر گئے۔ابھی تو ہم نے زندہ رہنا ہے بڑا عرصہ اور ہم نے ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ہے اور ساری دنیا کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے فتح کرنا ہے اور ہر دل میں توحید خالص کو قائم کرنا ہے۔ہم نے بڑے کام کرنے ہیں ابھی۔بڑی ذمہ داریاں ہیں، بڑی قربانیاں اللہ تعالیٰ ہم سے لے گا۔تو اس وقت تک کہ ہم خدا کی نگاہ میں زندہ رہیں یہ پین کی نوک جو ہے۔ہمارے جسموں کے ساتھ لگی رہے گی اگر کوئی فرد ( جماعت کو نقصان تو نہیں پہنچا سکتا ) بیوقوفی سے پن کا زائد حصہ بھی باہر نکال لے اور پھر اپنے جسم کے اندر خود ہی چھولے۔تو یہ اس کی بڑی حماقت ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس قسم کی حماقت سے محفوظ رکھے۔تو ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم چوکس اور بیدار ہیں اور اس اتحاد کو کمزور نہ ہونے دیں جو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل نے ہم میں پیدا کیا ہے یہ اتحاد اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے ایک چھوٹی سی جماعت ! کس شمار میں ہیں آپ اس دنیا میں !!! اندازہ کر لیں ! میرا یہی اندازہ ہے Just Three Million بس تیس لاکھ سے کچھ زائد ساری دنیا میں اور دنیا کی آبادی کے لحاظ سے تیس لاکھ حقیقت ہی کیا رکھتے ہیں دنیا آپ کی کیا پرواہ کر سکتی ہے؟؟؟ ایک ایک ملک تیس لاکھ سے زیادہ آدمی اپنی مصلحتوں کی بنا پر اور بعض دنیوی مقاصد کے حصول کے لئے قربان کر دیتے ہیں، اگر دنیا مل کے آپ کو قربان کر دینا چاہے تو آپ کے وجود کی قربانی کا احساس بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوسکتا۔اسی طرح ہی انسان دنیا میں چلتے پھرتے نظر آئیں گے لیکن خدا نے کہا کہ میں تمہارا خیال رکھتا ہوں اور میں نے تمہیں اپنے لئے چنا ہے تم میرے بنے رہو پھر دیکھو کہ دنیا کس طرح میری قدرتوں کے نظارے کس رنگ میں اور کس طور پر اور کس طریق سے دیکھتی ہے۔اتنا بڑا فضل