خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 883 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 883

خطبات ناصر جلد اوّل ۸۸۳ خطبہ جمعہ ۱۵ ستمبر ۱۹۶۷ء سے میرا اور پوپ کا مقام ایک جیسا ہی ہے یا ملتا جلتا ہے کیونکہ ڈنمارک کے شہری ڈین جو ہیں وہ مذہب میں بھی ایک انسان کی قیادت کو پسند نہیں کرتے بلکہ اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔وہاں لوتھرن چرچ ہے جو سٹیٹ چرچ ہے ، سٹیٹ چرچ کا مطلب ہے کہ ہر آدمی جو پیدا ہوتا ہے تو وہ اس چرچ کامبر سمجھا جاتا ہے گو بعد میں وہ دہر یہ ہو جو مرضی ہو۔وہ کہتے ہیں تم ہمارے ملک میں پیدا ہو گئے تو لوتھرن چرچ کے ممبر ہو گئے اس چرچ کو گورن ایک آدمی نہیں کرتا بلکہ مجلس کرتی ہے اور مجلس منتظمہ کا نام انہوں نے رکھا ہوا ہے۔کمیٹی آف ایکوال اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک انسان کی قیادت کے خلاف ان کے دلوں میں کس قدر زہر بھرا ہوا ہے اور انہوں نے بڑی ہشیاری سے سوالوں کا یہ سلسلہ بنایا کہ یہ جواب دیوے۔اس کو تو کچھ پتہ نہیں کہ ہمارے دماغ میں کیا بات ہے۔اگر کہیں یہ پکڑا جائے تو ہم کہیں گے کہ ان کے نزدیک ان کا مقام پوپ جیسا ہی ہے اور پوپ سے قوم نفرت کرتی ہے اس لئے قوم احمدیت کی طرف متوجہ نہیں ہوگی بلکہ احمدیت سے نفرت کرنے لگ جائے گی۔اسی طرح جس طرح وہ پوپ سے اور ایک فرد سے نفرت کرتی ہے۔ان کو سب کچھ پتا تھا مجھے تو کچھ پتہ نہیں تھا پہلا سوال انہوں نے اسی سلسلہ سے شروع کیا اور کہنے لگے کہ جماعت احمدیہ میں آپ کا مقام کیا ہے؟ ؟ میں نے انہیں کہا کہ تمہارا سوال میرے نزدیک غلط ہے کیونکہ میرے نزدیک جماعت احمدیہ اور میں ایک ہی وجود ہیں اس واسطے یہ پوچھنا کہ جماعت میں آپ کا کیا مقام ہے یہ سوال درست نہیں۔وہ بڑے گھبرائے کہ ہمیں یہ کیا جواب مل گیا ہے اور یہ جواب اسی وقت اللہ تعالیٰ نے سکھایا تھا جیسا کہ اس کی بڑی واضح ایک مثال ہے (اسی انٹرویو میں ایک واقعہ ہوا ) آپ کو بتاؤں گا اللہ تعالیٰ کے احسان جتانے کے لئے۔دوسرا سوال اس نے یہ کیا پھر کیا یہ درست نہیں ہے کہ جماعت پر فرض ہے کہ آپ کے سب احکام کی تعمیل کرے میں نے کہا ہرگز درست نہیں صرف ان احکام کی تعمیل ضروری ہے جو معروف ہیں۔یہ ہم عہد لیتے ہیں جو معروف حکم آپ دیں گے اس کی ہم اطاعت کریں گے تو ہر حکم کی اطاعت ضروری نہیں معروف حکم کی اطاعت ضروری ہے وہ پھر سٹ پٹایا کہ یہ کیا ہو گیا ؟ اور پھر بے جوڑ سوال کر دیا اگلا جس نے ایکسپوز کیا ان کو یعنی ظاہر کر دیا کہ ان کے دل میں کیا تھا۔کہنے لگا کہ اس