خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 884 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 884

خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کا مقام اور پوپ کا مقام ایک جیسا ہے۔حالانکہ پہلے دو جوابوں کے نتیجہ میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا تھا میں نے کہا ہر گز نہیں۔میں قرآن کریم کے احکام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کا پابند ہوں پوپ کے اوپر کوئی ایسی پابندی عائد نہیں ہوتی اس لئے بنیادی طور پر ہم دونوں کا مقام مختلف ہے پھر وہ سمجھے کہ یہ چال کامیاب نہیں ہوئی نہیں چلی۔پھر اور سوال تھے جو بڑے سوچے سمجھے اور فتنہ پیدا کرنے والے تھے۔لیکن وہاں اللہ تعالیٰ جواب ایسا سکھا دیتا تھا کہ بعد میں پھر وہ دفاع پر آگئے تھے بجائے اس کے کہ وہ حملہ آور ہوں جیسا کہ انہوں نے سوچا تھا۔تو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت سمجھایا کہ ان سے ایک بات کرو وہ بات میں اس خطبہ میں بیان نہیں کرتا۔میں نے ان کو کہا کہ تمہاری عیسائیت کی حالت قابل رحم ہو چکی ہے ہمیں تم پر رحم آتا ہے۔تو حیران ہو کے اس نے میری طرف دیکھا جب میں نے اس کو بتایا کہ کیوں قابل رحم ہے تو ان لوگوں کا جو لیڈر تھا ( ویسے وہ بڑا شریف آدمی تھا اور بڑی سلجھی ہوئی طبیعت کا ) اس کا منہ سرخ ہو گیا اور ہونٹ پھڑ پھڑانے لگے ، بات نہیں کر سکتا تھا۔حتی کہ ایک لفظ اس کے منہ سے نہیں نکل رہا تھا میں نے کہا اس وجہ سے تمہاری حالت قابل رحم ہے۔تو یہ سلسلہ ہے اللہ تعالیٰ کے احسان کا۔میں وہاں مرزا ناصر احمد کی حیثیت سے تو نہیں گیا تھا، نہ کوئی میری ذاتی غرض تھی اس سفر کے اختیار کرنے کی۔میں تو خدا تعالیٰ کے ایک ادنی بندہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عاجز اور کم مایہ خادم کی حیثیت سے وہاں گیا تھا، میں ان کی نمائندگی کر رہا تھا اور جب اللہ تعالیٰ مجھ پر احسان کر رہا تھا تو وہ میرزا ناصر احمد یہ نہیں تھا، میرزا ناصر احمد پر بھی اس کے بڑے احسان ہیں، وہ جماعت کے اوپر احسان تھے اور اللہ تعالیٰ آپ بتا رہا تھا کہ تم میدانِ عمل میں نکلو میں تمہارے ساتھ ہوں۔الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَا تمہیں خوف کس چیز کا ہے، آگے بڑھو اور کام کرو اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے شامل حال ہے۔تو شروع سے لے کر آخر تک سوال کا مجھے پتہ نہیں ہوتا تھا، ادھر فوری جواب !!! یہاں تک کہ ”بی بی سی کا نمائندہ آیا اور انہوں نے تین ہفتے آؤٹ لک میں میرے انٹرویو کونشر کیا۔وہ ویکلی پروگرام ہے۔ہفتہ میں ایک دفعہ آتا ہے تو تین دفعہ تین ہفتوں میں اسے نشر کیا اس طرح