خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 882 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 882

خطبات ناصر جلد اول ۸۸۲ خطبه جمعه ۱۵ ستمبر ۱۹۶۷ء وارننگ دینے والا میں نے جب اندازہ لگوایا تو منتظمین نے کہا کہ یہ پندرہ ہیں منٹ میں تو ختم نہیں ہو گا جو مطالبہ تھا ان ملکوں کا کہ آپ کا کوئی مضمون پندرہ بیس منٹ سے زیادہ کا نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ یہ تو پینتالیس منٹ کا ہے تو میں نے اپنی طبیعت کے مطابق کہا کہ جو مرضی ہے کاٹ دو کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس کو پندرہ بیس منٹ کے اندر لے آؤ۔تو ہمارے دوست جو کام کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ایک فقرہ بھی نہیں کٹے گا کیونکہ کوئی فقرہ ہمیں نظر نہیں آیا جو کٹنے کے قابل ہو تو میں نے کہا کہ پھر رہنے دو دیکھیں گے وہاں کیا ہوتا ہے۔جب ہم فرینکفرٹ پہنچے تو تین ہمارے مبلغ تھے ان کو میں نے ایک کمرے میں بٹھا یا اور کہا کہ یہ مضمون پڑھو اور مجھے رائے دو کہ آیا تمہارے ملک کے حالات ایسے ہیں کہ میں یہ پڑھ دوں یہ سارا انہوں نے پڑھا، مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ بالکل نہیں پڑھنا چاہیے۔ہمارے ملک کے حالات ایسے ہیں کہ یہ یہاں نہ پڑھا جائے میں نے وہ بند کر دیا اور اپنی عادت کے مطابق پھر اکثر سوائے ایک آدھ جگہ کے جہاں نوٹ لئے زبان پہ جو آتا تھا وہ میں کہہ دیتا تھا۔آدھ گھنٹہ کی پریس کانفرنس، ہر قسم کے انہوں نے سوال پیش کئے۔پریس کانفرنس کے علاوہ ڈیرھ گھنٹہ کا عیسائی سوسائٹیز کے نمائندوں کے ساتھ ایک انٹرویو تھا ( کوپن ہیگن میں ) وہ تین سوسائیٹیوں کے نمائندے تھے اور بارہ افراد پر مشتمل تھے۔جن میں سے اکثر پادری اور جو باقی تھے وہ سکالر تھے اور انہوں نے اس انٹرویو کو اتنی اہمیت دی کہ انہوں نے مجھ سے اس وقت ، وقت لیا جب میں کوپن ہیگن آنے سے پہلے جرمنی میں پھر رہا تھا۔پھر انہوں نے (جیسا کہ ان کے لیڈر نے مجھے بتا یا کہ ہم نے ) کئی دن میٹنگیں کی تھیں اور اب آپ کے پاس آنے سے پہلے بھی تین گھنٹے سر جوڑا اور مشورہ کیا ہے اور ایک سوال نامہ تیار کیا ہے کاپی کھول کر کہنے لگا کہ یہ ہم نے سوال لکھے ہیں اس سے آپ سمجھ لیں کہ کتنی اہمیت انہوں دی کئی گھنٹے وہ یہ غور کرتے رہے تھے کہ ہم کیا سوال کریں کیا نہ کریں، کس مقصد کے پیش نظر ہم سوال کریں۔مجھے تو کچھ پتہ نہیں تھا کہ انہوں نے کیا مشورے کئے اور وہ کیا حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے ایک سوال سے پتہ لگا کہ ان کے سوالوں کا جو ایک سلسلہ تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ میرے منہ سے یہ کہلوائیں کہ جماعت کا امام ہونے کی حیثیت