خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 776 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 776

خطبات ناصر جلد اول 22Y خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء ایک عرصہ بند بھی رہے ہیں۔اب بھی بعض ملک ایسے ہیں کہ وہاں کی فلائٹس ابھی جاری نہیں ہوئیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بھی شاید اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت ہے۔اس لئے کہ جب یہ سفر سامنے آیا اور پھر ہم نے غور کیا اور پھر فیصلہ کیا کہ ہم روانہ ہونگے۔تو اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعدد الہامات کے متعلق غور کرنے کا موقع ملا اور بعض ایسی باتیں توجہ کے سامنے آئیں۔پڑھتے تو ہم پہلے بھی تھے۔لیکن تو جہ خاص طور پر ان کی طرف مبذول ہوئی جو اس طرح نمایاں طور پر نظر کے سامنے نہیں تھیں۔مثلاً ایک بڑی نمایاں چیز ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جن پانچ عالمگیر تباہیوں کے متعلق خبر دی ہے جن میں سے دو جو ہیں وہ پہلی عالمگیر جنگ اور دوسری عالمگیر جنگ کی شکل میں ظاہر ہو چکی ہیں بڑی تباہی ان کی وجہ سے دنیا میں ہوئی اور لاکھوں اموات انسانوں کی ہوئیں ایک تیسری عالمگیر تباہی ( پانچ میں سے تیسری ) قریب ہمیں نظر آ رہی ہے۔تو جب ان تینوں کے متعلق اور ان الہامات پر سوچا گیا اور غور کیا گیا تو بعض نئی باتیں سامنے آئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں ان عالمگیر تباہیوں کا ذکر فرمایا ہے وہاں بڑی تفصیل کے ساتھ ان کی علامات بھی بتائی ہیں جو چیز سامنے آئی اور بڑی دلچسپ تھی وہ یہ کہ بعض ایسی علامتیں بتائی گئیں ہیں جو پہلی جنگ پر تو چسپاں ہوتی ہیں لیکن دوسری بعد میں ہونے والی کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے۔بعض ایسی علامتیں ہیں جو پہلی اور دوسری عالمگیر جنگ اور عالمگیر تباہی جو دنیا پر آئیں ان پر تو چسپاں ہی نہیں ہوتیں نہ ہوسکتی تھیں۔اس وقت ایسے حالات ہی نہیں تھے کہ وہ واقعہ جس کا تعلق موجودہ تباہی کے ساتھ ہے وہ واقعہ ان عالمگیر تباہیوں کے حالات میں ہو ہی نہیں سکتا تھا ناممکنات میں سے تھا۔مثلاً ایک بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی ایک عالمگیر تباہی کے متعلق یہ بیان فرمائی ہے کہ اس موقع پر علاقے کے علاقے ایسے ہوں گے جہاں سے زندگی ختم ہو جائے گی یہ نہیں کہ انسان مر جائیں گے یا بعض چرند اور پرند جو ہیں اس کی لپیٹ میں آجائیں گے بلکہ وہاں لائف نہیں رہے گی۔لائف ایگزیسٹ نہیں کرے گی۔(اس علاقہ میں ) بڑی وضاحت کے ساتھ واضح الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کو بیان کیا ہے۔پہلی عالمگیر تباہی اور دوسری عالمگیر تباہی