خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 777
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء کے موقع پر کوئی علاقہ ایسا نہیں تھا۔جہاں زندگی ختم ہوگئی ہونہ ایسا ہونا ممکن تھا سوائے ایک نمونہ کے جو دوسری عالمگیر تباہی کے آخر میں دنیا کو دکھایا گیا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں دنیا کو یہ سبق لینا چاہیے جو انہوں نے نہیں لیا کہ جو تیسری عالمگیر تباہی ہے۔اس تباہی کے موقع پر اس قسم کے حالات پیدا ہو نگے یعنی جو ایٹم بم امریکہ نے جاپان پر پھینکا وہ ایک چھوٹا سا علاقہ تھا۔جس میں زندگی ختم ہو گئی انسان کی زندگی نہیں، پرند کی زندگی نہیں، چوپایوں کی زندگی نہیں بلکہ کوئی کیڑا مکوڑا بھی وہاں زندہ نہیں رہا۔صحیح طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس جگہ سے زندگی ختم ہوگئی ہے۔تو اس قسم کی تباہی جو ہے اس کی خبر دی گئی ہے دنیا کو۔جس وقت یہ خبر دی گئی تھی۔اس وقت کسی انسان کو بھی وضاحت کے ساتھ یہ علم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ایٹم کے اندر اس قدر توانائی رکھی ہے۔ایک انہونی بات تھی۔اس واسطے ہم پڑھتے تھے اور گزر جاتے تھے۔کوئی کچھ خیال کرتا ہوگا کوئی کچھ !!! سمجھ میں نہ آسکتی تھی یہ چیز لیکن اب ہماری سمجھ میں آنے لگ گئی ہے ایک اور ایسی چیز جو بالکل ناممکن ہے اس وقت۔اس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خبر دی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے کہا کہ رشیا میں میں جماعت کے آدمیوں کو دیکھ کر۔۔۔۔۔۔ایسی زبر دست پیشگوئی ہے کہ انہونی بات ہے عقل کے نزدیک، خدا کے نزدیک تو ہونی بات ہے ہو کر رہے گی۔لیکن عقل کے نزدیک یہ انہونی بات ہے اس قوم کا مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔وہ قوم یہ دعوی لے کر کھڑی ہوئی ہے کہ ہم زمین سے خدا تعالیٰ کے نام کو اور آسمان سے اس کے وجود کو مٹادیں گے اور اس قوم کے متعلق یہ پیشگوئی کی جارہی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے اس دعوی میں نا کام ہوگی بلکہ بتایا یہ جارہا ہے کہ یہ قوم جو دنیا میں اس دعویٰ کے ساتھ کھڑی ہوئی کہ مذہب ہے ہی سارا دھوکا بازی اور نہ خدا اور نہ اس قسم کی ہستی ممکن ہوسکتی ہے نہ یہ مذاہب خدا کی طرف سے ہیں۔عام طور پر یہ مشہور ہے کہ ایک لاکھ بیس ہزار یا چوبیس ہزار پیغمبر دنیا میں آیا۔ان لوگوں کے نزدیک یہ ایک لاکھ چوبیس ہزار مقدس وجود جنہوں نے نہ صرف دلائل کے میں اپنی جماعت کو رشیا کے علاقہ میں ریت کی مانند دیکھتا ہوں۔