خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 737
خطبات ناصر جلد اول ۷۳۷ خطبہ جمعہ ۹ جون ۱۹۶۷ء ہے کہ انسان کے اندر جو روحانی اور اخلاقی قوتیں اور استعداد میں اور طاقتیں ودیعت کی گئی تھیں ان کے اظہار کا وقت آ گیا ہے۔اب دنیا یہ دیکھے گی کہ انسان اپنے رب کی راہ میں اپنی طاقتوں کو کس طرح خرچ کرتا ہے اور اپنی استعدادوں کو وہ اپنے کمال تک کس طرح پہنچا تا ہے۔اسلام کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے، اپنے رب کے سامنے اپنی گردن کو قربان کرنے کے لئے رکھ دینا۔اپنے تمام ارادوں کو چھوڑ کر اپنی تمام خواہشوں کو چھوڑ کر خدا کی رضاء پر راضی رہنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا یعنی اپنا کچھ بھی باقی نہ رہے سب کچھ خدا کو دے دیا جائے اور پھر خدا سے ایک نئی زندگی حاصل کر کے ایک خیر امت کی شکل میں اس دنیا میں زندگی کے دن گزارے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس مضمون کے متعلق فرماتے ہیں۔اور اصطلاحی معنے اسلام کے وہ ہیں جو اس آیت کریمہ میں اس کی طرف اشارہ ہے۔یعنی یہ کہ بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنُ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : ۱۱۳) یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے۔یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی کے حاصل کرنے کے لئے وقف کر دیوے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا دیوے۔مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا ہو جاوے۔اعتقادی طور پر اس طرح سے کہ اپنے تمام وجود کو در حقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے جو خدا تعالیٰ کی شناخت اور اس کی اطاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے اور عملی طور پر اس طرح سے کہ خالصہ اللہ حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق اور ہر یک خدا داد توفیق سے وابستہ ہیں بجالا وے۔مگر ایسے ذوق و شوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرماں برداری کے آئینہ میں اپنے معبود حقیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے۔اکیسواں مقصد ارنا مناسگنا میں بیان ہوا تھا اور بتایا گیا تھا کہ اس نبی موعود پر ایک ایسی شریعت